صدر ممنون حسین نے دوطرفہ تعلقات کو کثیرالمقاصد شراکت میں تبدیل کرنے کے علاوہ دوطرفہ تجارت بڑھانے اور ویزہ پالیسی میں نرمی کرنے پر زور دیا ۔

09 ستمبر 2017 (16:13)
0

پاکستان اور قازخستان نے دفاع، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کیلئے مشترکہ منصوبہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق رائے صدر ممنون حسین اور قازخستان کے وزیراعظمBakytzhan Sagintayev کے درمیان ہفتےکے روز آستانہ میں ایک ملاقات کے دوران طے پایا۔
ممنون حسین نے دوطرفہ تعلقات کو کثیرالمقاصد شراکت میں تبدیل کرنے کے علاوہ دوطرفہ تجارت بڑھانے اور ویزہ پالیسی میں نرمی کرنے پر زور دیا ۔صدر نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے معاملے پر منصفانہ موقف اپنانے پر قازخستان کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تیل اور گیس کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں اضافے کا خواہاں ہے اور پاکستانی فرمیں قازخستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں۔
ممنون حسین نے تجارت کا حجم بڑھانے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان فضائی اور سڑک کے رابطے قائم کرنے پر زور دیا۔صدر نے کہا کہ علاقائی اقتصادی استحکام کیلئے پاکستان، چین ، قازخستان اور کرغزستان پر مشتمل چار فریقی اتحاد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے صنعت ، تجارت ، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان وفود کے تبادلوں کی تجویز دی جسے قازخستان کے وزیراعظم نے قبول کرلیا۔قازخستان کے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں رکن کے طور پر شمولیت کے بعد خطے میں اس کے تعلقات مزید بڑھیں گے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کیلئے قازخستان کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے معدنیات ، کان کنی، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون میں اضافے کے حوالے سے قازخستان کی خواہش کا اظہار کیا۔
قازخستان کے وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک سے ماہرین کے درمیان رابطے کی بھی تجویز دی۔