File Photo

مقبوضہ کشمیر:کٹھ پتلی انتظامیہ نے اعلیٰ مزاحمتی قیادت کو حراست میں لے لیا
09 ستمبر 2017 (11:57)
0

مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے نئی دہلی میں بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارے کے ہیڈ کوارٹرز کی جانب مارچ کوروکنے کیلئے سینئر مزاحمتی قیادت کو گرفتارکرلیا ہے ۔

سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق ، محمد یاسین ملک پرمشتمل مزاحمتی قیادت نے قومی تحقیقاتی ادارے کی کشمیری عوام سے متعلق اس کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طورپر اس کے ہیڈ کوارٹر کے باہر گرفتاریاں دینے کا اعلان کیاتھا۔
بھارتی پولیس نے آدھی رات کو محمد یاسین ملک کو سری نگر میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتارکرنے کے بعد نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا ہے جبکہ سید علی گیلانی اورمیرواعظ عمر فاروق پہلے ہی اپنے گھروں پر نظر بند ہیں ۔
کٹھ پتلی انتظامیہ نے سری نگر میں نوہٹہ ، میراج گنج ، صنعاکدل ، خان یار ، MAISUMAاوررینا واڑی پولیس اسٹیشنوں کی حدود میں سخت پابندیاں عائد کردی ہیں تاکہ عوام کوبھارت مخالف مظاہروں سے روکا جاسکے ۔
ادھر آج سوپور کے علاقے REBAN میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے محاصرے اورتلاشی کی کارروائی کے دوران بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ۔
نواحی علاقوں ہادی پورہ اور CHETLORA کے عوام نے REBANکی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی بھارتی پولیس اور فوج نے مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس پر بھارتی سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں ۔