وزیر تجارت نے آج سینیٹ کو بتایا کہ روس کو برآمد کی جانے والی اشیاء میں چاول ، کپڑا ، مصنوعی ریشہ ، ہوزری اور کھیلوں کا سامان شامل ہے۔

حکومت روس کوزرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کیلئےتمام ممکن کوششیں کر رہی ہے
09 اکتوبر 2015 (13:13)
0

سینیٹ کو آج بتایا گیا کہ حکومت روس کو زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کیلئے تمام ممکن کوششیں کر رہی ہے۔وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ کھانے پینے کی اشیاء برآمد کنندگان کے تیس رکنی وفد نے روس کا دورہ کیا اور ورلڈ فوڈ فیسٹیول میں شرکت کی۔روسی منڈی میں پاکستانی مصنوعات متعارف کرائی گئیں اور روسی فیڈریشن نے زرعی مصنوعات درآمد کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ روس کو برآمد کی جانے والی اشیاء میں چاول ، کپڑا ، مصنوعی ریشہ ، ہوزری اور کھیلوں کا سامان شامل ہے۔


ایک سوال کے جواب میں پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے ایوان کو بتایا کہ تصدیق کے عمل کے دوران دو کروڑ ساٹھ لاکھ غیرتصدیق شدہ موبائل سموں کو بند کر دیا گیا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔سنیٹر طلحہ محمود نے ایوان کو بتایا کہ پی آئی اے انتظامیہ اور پالپا کے درمیان مسئلے کو کابینہ کے بارے میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی مداخلت سے حل کر لیا گیا ہے اور پی آئی اے کی پروازیں اب معمول کے مطابق جاری ہے۔


چوہدری تنویر خان کے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیراطلاعات پرویز رشید نے ایوان کو بتایا کہ پیمرا موجودہ قواعد وضوابط کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔ایک اور توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے ہاوسنگ وتعمیرات کے وزیر اکرم خان درانی نے کہا کہ بھارہ کہو ہاوسنگ سکیم میں پلاٹوں کی الاٹ منٹ کے خطوط متعلقہ محکموں سے تصدیق کے بعد آئینی اداروں کے ملازمین کو جاری کئے جائیں گے۔

بعد میں ایوان میں وزارت پانی وبجلی کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے نیپرا رپورٹ پر بحث کی گئی۔مشاہد حسین سید ، شاہی سید ، فرحت اﷲ بابر ، نعمان وزیر ، سعید غنی ، سسی پلیجو اور رحمان ملک نے بحث میں حصہ لیا۔


انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارت میں بدانتظامی ، ناقص کارکردگی اوربدعنوانی کےحوالےسے نیپرا کے اٹھائے گئے تمام سوالات کا جواب دیا جانا چاہئیے۔ارکان نے لائن لاسز اور بجلی پوری روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ایوان کا اجلاس اب پیر کو ڈھائی بجے پھر ہو گا۔