بدعنوانی کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پرایک سیمینار سے خطاب میں صدر ممنون حسین نے سول سوسائٹی اور اداروں پرزور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔

بے رحمانہ اور کڑے احتساب کےذریعے ہی بدعنوانی کاخاتمہ کیاجاسکتا ہے
09 دسمبر 2014 (15:34)
0

اسلام آباد میں بدعنوانی کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ بے رحمانہ اور کڑے احتساب کے ذریعے ہی بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے سول سوسائٹی اور اداروں پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔


انہوں نے کہا جمہوریت کا یہ ایک خاصا ہے کہ اس سے ہی بدعنوانی سے پاک معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ممنون حسین نے کہا کہ حکومت کی کاکردگی بہتر بنا کر بدعنوانی کا خاتمہ کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ، خودمختار اداروں کو ایسا نظام وضع کرنا چاہئیے جس سے مستقبل میں بدعنوانی کا راستہ روکا جائے۔منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت ہر قسم کی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔


انہوں نے کہا کہ کوئی رہنمائ، جماعت یا ادارہ اکیلے پاکستان کو بدعنوانی سے پاک کرنے کا مقصد حاصل نہیں کر سکتا اور اس مقصد کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کہا کہ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف کوئی رعایت نہ دینے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نیب نے سرکاری خزانے سے لوٹے گئے چار ارب روپے وصول کئے ہیں۔