ریڈیوپاکستان کےساتھ خصوصی انٹرویومیں چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ اکتوبر 2013سے اکتوبر 2014کے دوران ایک سال میں لوٹی گئی چارارب روپے کی رقم واپس لاکرقومی خزانے میں جمع کرا دی گئی ہے۔

احتساب کاعمل کسی رعایت اورانتقام کےبغیر جاری ہے
09 دسمبر 2014 (10:49)
0

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ احتساب کا عمل کسی رعایت اور انتقام کے بغیر بلاامتیاز جاری ہے۔انہوں نے یہ بات آج انسداد بدعنوانی دن کے سلسلے میں ہمارے نمائندے جاوید خان جدون کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔چیئرمین نیب نے کہا کہ 152 ریفرنس احتساب عدالتوں کو بھجوائے گئے ہیں جن میں سے بعض ریفرنس حکومت سے متعلق ہیں۔قمر زمان چوہدری نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں کہ نیب کو ماضی کی نسبت مزید غیر جانبدار اور منصفانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔


پاکستان کی انسداد بدعنوانی کی درجہ بندی میں بہتری سے متعلق ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شہریوں اور حکومتی اداروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ایک سوال پر چیئرمین نیب نے کہا کہ اکتوبر دوہزار تیرہ سے اکتوبر دوہزار چودہ کے دوران ایک سال میں لوٹی گئی چار ارب روپے کی رقم واپس لائی گئی ہے اور قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو لوٹنے ، جعلی ہائوسنگ سوسائٹیوں، مضاربہ سکینڈل ، مالیاتی کمپنیوں کے فراڈ اور سرکاری محکموں میں بدعنوانی سے متعلق مقدمات پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔


قمر زمان چوہدری نے کہا کہ نیب ہفتہ انسداد بدعنوانی منا رہا ہے تاکہ بدعنوانی کے سنگین اثرات سے متعلق عوام میں آگہی پیدا کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف مہم میں لوگوں کو شامل کیا جارہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں چیئرمین نیب نے کہا کہ ایک وسل بلوور ایکٹ تیار کیا جارہا ہے ۔ اس ایکٹ کے تحت جو لوگ کسی بھی بدعنوانی سے متعلق معلومات فراہم کریں گے انہیں تحفظ دیا جائے گا اور ان کی شناخت کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔