پائیدار ترقیاتی کانفرنس کے 17ویں اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ممنون حسین نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی کے حصول میں تمام فریقین کو ملکر کردار ادا کرنا ہوگا ۔

صدرکا جنوبی ایشیاء کی خوشحالی اورترقی کیلئےعلاقائی تعاون کے فروغ پرزور
09 دسمبر 2014 (13:09)
0

صدر مملکت ممنون حسین نے عام مسائل کو حل کرنے اور جنوبی ایشیاء کو خوشحالی اور ترقی کیلئے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔وہ آج اسلام آباد میں پائیدار ترقی کی راہ کے موضوع پر تین روزہ سترہویں کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک اختلافات باہمی رابطوں اورمذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی کے حصول میں تمام فریقین کو ملکر کردار ادا کرنا ہوگا اور خطے کی تمام حکومتیں مشترکہ کاوشوں اور باہمی اعتمادکے ذریعے تمام شعبوں میں بامقصد تعاون یقینی بناسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں سول سوسائٹی، پالیسی تھنک ٹینک، دانشور، پرائیویٹ سیکٹر اور میڈیا کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی حکومتوں کو باہمی اعتماد کو فروغ دیتے ہوئے تمام تنازعات کو بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ سرکاری شعبے کے اخراجات کو عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کو یقینی بنانا ہوگا، عارضی اقدامات کی بجائے وسائل کو عوام کی بہبود کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ صدر مملکت نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی میکرو اکنامکس کی شرح نمو میں کارکردگی متاثر کن ہے تاہم خطے میں غربت اورمعاشی عدم مساوات میں اضافہ ہورہا ہے، خطے میں غربت اور عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے گلوبل ڈیولپمنٹ اہداف کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ قدرتی آفات کی کوئی سرحدنہیں ہوتی، ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاو کے لیے مشترکہ تعاون کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ہمیں ہنگامی اقدامات اور بچاو کا میکینزم بنانے کی ضرورت ہے، اس میکینزم کو بنانے کے لیے تھنک ٹینکس کو تجاویز مرتب کرنا ہونگی،

صدر مملکت نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی حکومت پاکستان کو فوڈ سیکورٹی، توانائی، معیشت، سوشل سیکٹر،ماحولیاتی تبدیلیوں اور ویژن 2025 پر تحقیق کی بنیاد پر تشکیل دی گئی پالیسی تجاویز دے رہا ہے، یہ اقدامات حکومت کی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ پالیسی ریسرچ کے فروغ کی عکاسی کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے ایجنڈے کو بہت ترجیح دیتا ہے، یہ اقدامات حکومت کی غیر جانبدارانہاور آزادانہ پالیسی ریسرچ کے فروغ کی عکاسی کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف سے عدم استحکام کو درست کرنے میں مدد ملے گی جس سے نہ صرف معاشی ترقی ہوگی بلکہ سماجی انصاف اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔پائیدار ترقیاتی اہداف سے لوگوں کی برداشت کو مزید تقویت ملے گی۔ ملینیم ڈولیپمنٹ اہداف کی طرح پائیدار ترقیاتی اہداف حکومتوں کو قومی ترقیاتی حکمت عملی بنانے میں مدد گار ثابت ہونگے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان علاقائی تعاون اور باہمی تجارت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے ویژن 2025 کے ذریعے پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے موثر حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ صدرمملکت نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی کانفرنس، کھٹمنڈو میں ہونے والی 18 ویں سارک سربراہ کانفرنس کے دو ہفتے بعد منعقد ہورہی ہے۔ کھٹمنڈو اعلامیہ میں بھی خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رکن ممالک کے سربراہوں نے تعاون کے تمام پہلوں پر نہ صرف غور کیا بلکہ خطے میں پائیدار ترقی کے لیے اتفاق کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں لگی بندھی سوچ سے ہٹ کر جرات مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے