Friday, 18 October 2019, 11:34:34 am
پاکستان،چین کاسدا بہارسٹرٹیجک اشتراک عمل کومزید مستحکم کرنےکےعزم کا اعادہ
October 10, 2019

پاکستان اور چین نے تعاون پر مبنی سدا بہار سٹرٹیجک اشتراک عمل کو مزید مستحکم کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے جس کا مقصد نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی تعمیر کرنا ہے ۔اس عزم کا اظہار بدھ کے روز بیجنگ میں وزیراعظم عمران خان کے دو روزہ دور ہ چین کے اختتام پر جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں کیاگیا۔فریقین نے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی تعلقات ' گہری دوستی اورسٹرٹیجک شراکت داری دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہے اور ہم خطے کے امن واستحکام اور ترقی میں کردارادا کررہے ہیں انہوں نے اہم مفادات سے متعلق امور پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔چین کے رہنمائوں نے پاکستان کی علاقائی سالمیت آزادی اور سیکورٹی کے تحفظ کیلئے اپنی یکجہتی کا اعادہ کیا۔پاکستان نے ایک چائنا پالیسی کے عزم کا اعادہ اور چین دو نظام کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ ہانگ کانگ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے بنیادی اصول کی پیروی کرنی چاہیے ۔پاکستانی وفد نے چینی وفد کو جموں وکشمیر کی صورتحال اس حوالے سے اپنے تحفظات اور موجودہ فوری مسائل پربریفنگ دی ۔چینی وفد نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور کہاکہ کشمیر تاریخ کا چھوڑا ہوا تنازعہ ہے اوراس کو اقوام متحدہ کے منشور' اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کی بنیاد پر پرامن طریقے سے حل کیاجاناچاہیے چین نے صورتحال کوپیچیدہ بنانے والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کی ۔پاکستانی وفد نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک انقلابی منصوبہ ہے فریقین نے کہاکہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان میں صنعتی اور سماجی واقتصادی ترقی کو فروغ دے گا۔پاکستان نے مزید کہا کہ گوادر پورٹ کو مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں جس سے وہ خطے کیلئے تجارت اور نقل وحمل کا مرکز بن جائے گا فریقین نے سی پیک کو تیزی کے ساتھ مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ ترقی میں اس کے کردار سے مکمل طورپر استفادہ کیاجاسکے۔فریقین نے کہاکہ مشترکہ تعاون کمیٹی کے آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس سے جاری منصوبوں پر عملدرآمد میں مزید تیزی آئے گی اور ایم ایل ون سمیت تعاون کے نئے در کھلیں گےانہوں نے کہاکہ خصوصی اقتصادی زونز میں چینی سرمایہ کاری اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبارمیں تعاون سے پاکستان کے صنعتی شعبے کو وسعت ملے گی اور برآمدات میں تنوع پیداہوگا۔فریقین نے توانائی' پیٹرولیم ' گیس ' زراعت ' صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں پاکستان کی طرف سے تجویز کیے گئے منصوبوں کا مشترکہ طورپر جائزہ لینے پر اتفاق کیا ۔انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلیمی روابط مضبوط تر ہورہے ہیں وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی طلباء کو چین میں تعلیم کے مواقع فراہم کرنے پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے امیدظاہر کی کہ یہ طلبا ء دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلقات کو مزید وسعت دینے میں اہم کردارادا کریںگے ۔فریقین نے اتفاق کیا کہ چین پاکستان آزادانہ تجارت معاہدے کے دوسرے مرحلے پر جلد عملدرآمد سے دوطرفہ تجار ت میں مزید اضافہ ہوگا ۔ فریقین نے دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعاون میں متوازن اور پائیدار ترقی کے حصول کیلئے چین پاکستان مشترکہ اقتصادی اور تجارتی کمیشن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ۔اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں امن اور استحکام علاقائی سلامتی کیلئے اہم ہے ۔چین نے افغانستان میں امن اور مصالحتی عمل کو فروغ دینے میں پاکستان کی کوششوں کوسراہا دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ افغانوں کی زیرقیادت اورافغانوں پر مشتمل امن عمل ملک میں امن اور استحکام لانے میں اہم ہوگا ۔وزیراعظم عمران خان اوران کے چینی ہم منصب LI KEQIANG مختلف معاہدوں اورمفاہمت کی یادداشتوں کے سلسلے میں دستخطوں کی تقریب میں موجود تھے ۔