Friday, 18 October 2019, 11:15:52 am
مقبوضہ کشمیر، سخت فوجی محاصرے کے باعث 66ویں روز بھی معمولات ِ زندگی مفلوج
October 09, 2019

مقبوضہ کشمیر میں وادی اورجموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں سخت فوجی محاصرے کے باعث معمولات زندگی مسلسل 66ویں روز بھی مفلو ج رہے ۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق فوجی محاصرے کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز مسلسل بنداور سڑکوں پر ٹریفک کی آمدورفت معطل اورکاروباری ادارے بندجبکہ سکول اور دفاتر ویرانی کا منظر پیش کررہے ہیں۔

لاک ڈائون کی وجہ سے چار لاکھ غیر کشمیریوں کے چلے جانے کے باعث مقبوضہ علاقے میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی پیدا ہو گئی ہے ۔

وادی کشمیر کے عوام نے سخت پابندیوں اور مواصلاتی بلیک آئوٹ کے دوران کشمیر کیلئے سفری پابندی اٹھانے کے گورنر کی احکامات کو مضحکہ خیز قراردیتے ہوئے کہاہے کہ جب کشمیریوں کیلئے ہی نقل و حرکت اور اپنے قریبی رشتہ داروں سے رابطوں پر پابندی عائد ہے تو کون کشمیر آنا چاہے گا ۔

دوسری جناب صنعتی ماہرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈائون سے دو ماہ کے دوران علاقے کی معیشت کو ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر سے زائد نقصان ہوا ہے ۔

سری نگر سے تعلق رکھنے والے ایک معروف سرمایہ کار مشتاق احمد CHAYA نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں تقریبا تین ہزار ہوٹل ہیں جو بالکل خالی ہیں ۔

ہوٹل مالکان قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اوران کیلئے اپنے روز مرہ کے اخراجات برداشت کرنا بھی انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

 ادھر امریکہ کے بااثر ڈیموکریٹک سینٹرمارک وارنر نے جو سینٹ میں اندیا کوکس کے شریک چیئرمین بھی ہیں، ایک ٹویٹ میں کہاہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی ذرائع اور لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندیوں سے پریشان ہیں۔

انہوں نے بھارتی حکومت پر زوردیاہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں میڈیاکی آزادی،اطلاعات کی فراہمی اور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے کر جمہوری اقدار کی پاسداری کرے۔