گزشتہ تین برسوں کے دوران خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل( ایس آئی ایف سی ) کے تعاون سے پاکستان کے صحت کے شعبے میں متعدد اہم اصلاحات اور ترقیاتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
وفاقی کابینہ کی جانب سے''نیشنل ویکسین پالیسی'' کی منظوری کے بعد ملک میں ویکسین کی مقامی تیاری اور عالمی معیار کے مطابق نظام کی بہتری کی سمت اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
اسی طرح''نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی''کے تحت خون کے محفوظ استعمال اور پلازما پروڈکشن کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے، جس سے طبی سہولیات کے معیار میں اضافہ ہوا ہے۔
ادویات کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے عام استعمال کی ادویات کی قیمتوں میں نرمی کی گئی، جس سے مارکیٹ میں سپلائی میں بہتری دیکھی گئی۔
پاکستان کو میڈیکل ٹورازم کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے بھی اقدامات شروع کیے گئے ہیں، تاکہ غیر ملکی مریضوں کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کی منظوری حاصل ہوئی، جس سے پاکستانی ادویات پر بین الاقوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
ہیلتھ ٹیک کے شعبے میں اسٹارٹ اپس، ٹیلی میڈیسن اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں، جس سے ڈیجیٹل صحت کے نظام کو فروغ ملا ہے۔
مزید برآں، ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان ایسوسی ایشن آف پلاسٹک سرجنز کی 30ویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان کے صحت کے شعبے کا منافع 78 فیصد اضافے کے ساتھ 42.2 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔
مجموعی طور پر ان اقدامات کو پاکستان کے صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔