وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانا اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بدستور حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

08 ستمبر 2017 (16:04)
0

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دس ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں سے لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں ملی ہے اور حکومت اس سال نومبر تک لوڈشیڈنگ مکمل ختم کردے گی ۔
وہ جمعہ کے روز میانوالی میں 340 میگاواٹ کے چشمہ فور ایٹمی بجلی گھر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہاکہ حکومت 2030 تک قومی گرڈ میں 8800 میگاواٹ بجلی شامل کرنے کے ہدف کیلئے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانا اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بدستور حکومت کی اولین ترجیح ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں ایٹمی بجلی گھروں نے سستی بجلی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
چین پاکستان تعاون اور سی پیک منصوبوں کے حوالے سے وزیراعظم نے کہاکہ ملک بھر میں پھیلائے گئے سڑکوں کے جال گوادر کی ترقی اور تھرکوئلے کے منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی بجلی گھر عالمی معیار کے مطابق ہیں جو ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے اصولوں کی پاسداری کررہے ہیں، مستقبل میں بھی تعمیر ہونے والے تمام ایٹمی بجلی گھر انہی اصولوں کے مطابق تعمیر کیے جارہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ تین ایٹمی بجلی گھرمکمل ہیں ، سستی بجلی پیدا کررہے ہیں، یہ بات باعث اطمینان ہے کہ کراچی میں کے ٹو اور کے تھری ایٹمی بجلی گھر تیزی سے مکمل کیے جارہے ہیں جو سستی بجلی فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے یہ بات باعث فخر ہے کہ وہ چار عشروں تک بیرونی امداد کے بغیر کراچی کا ایٹمی بجلی گھر چلاتا رہا ہے۔ وزیراعظم نے بجلی کی پیداوار، صحت اور زراعت کے شعبوں میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چین کے ساتھ بڑے منصوبے شروع کیے ہیں جن کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں سڑکوں، تھر کوئلہ ذخائر اور گوادر میں ترقی کی پیش رفت نمایاں ہے اور مجموعی قومی پیداوار کی شرح پانچ فیصد سے بڑھ گئی ہے اور توقع ہے کہ یہ اگلے سال چھ فیصد ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سی پیک منصوبوں میں نجی شعبے کی شراکت کی خواہاں ہے ، چینی حکومت نے بھی متعدد منصوبوں میں مزید فنڈز فراہم کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔