یہ قرارداد قانون اور انصاف کے وزیر زاہد حامد نے پیش کی جس میں برادر ہمسایہ ملک ایران کے عوام اور پارلیمنٹ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیاہے۔

 ایران میں دہشتگرد حملوں کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد یں منظور
08 جون 2017 (15:02)
0

قومی اسمبلی نے آج ایک متفقہ قرارداد کی منظوری دی جس میں ایران کی پارلیمنٹ اور آیت اﷲ خمینی کے مزار پر دہشت گردی کے حملوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

یہ قرارداد قانون اور انصاف کے وزیر زاہد حامد نے پیش کی جس میں برادر ہمسایہ ملک ایران کے عوام اور پارلیمنٹ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیاہے۔ قرارداد میں خطے میں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے عزم کا اعادہ کیا گیاہے۔کارروائی کے آغاز پر ایوان میں ایران میں دہشت گردی کے حملوں میں شہید ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ارکان نے ایران کی پارلیمنٹ اور آیت اﷲ خمینی کے مزار پر دہشت گرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی مشترکہ خطرہ ہے جس کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
ایوان میں ایک اور متفقہ قرارداد کی بھی منظوری دی گئی جس میں خلیج کے علاقے میں سعودی عرب اور قطر سمیت مسلمان ملکوں کے تعلقات میں حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

آفتاب احمد شیرپاؤ کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں تمام ملکوں پر صبروتحمل کا مظاہرہ کرنے اور تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔قرارداد میں حکومت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ مسلم امہ کے درمیان اتحاد کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔

ارکان نے کہا کہ سعودی عرب ، ایران ، قطر اور تمام مسلمان ملک پاکستان کیلئے یکساں اہم ہیں۔پاکستان کو مسلمان ملکوں کے درمیان اختلافات خوش اسلوبی سے حل کرنے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئیے۔

سینٹ نے بھی ایران میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائی کے خلاف مذمتی قرارداد کی متفقہ طور پر منظوری دی۔کریم احمد خواجہ کی طرف سے پیش کی گئی قراراداد میں حملوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا ہے۔