ہڑتال اور کرفیو کے باوجودسینکڑوں نوجوانوں کا برہان وانی کے مزار کی جانب مارچ
08 جولائی 2017 (19:34)
0

مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کے ممتاز حریت پسند نوجوان برہان مظفروانی کی پہلی برسی ہڑتال اور کرفیو کے باوجود منائی گئی۔

برہان وانی کو بھارتی فوج نے ان کے دو ساتھیوں سمیت گزشتہ سال ضلع اسلام آباد کے علاقے کوکرناگ میں ایک جعلی مقابلے میں شہید کر دیا تھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق برہان وانی کی برسی اس عزم کی تجدید کے ساتھ منائی جا رہی ہے کہ آزادی کشمیر کی جدوجہد کی کامیابی تک شہداء کے مشن جاری رکھا جائیگا۔
ادھر ، مقبوضہ وادی میں کرفیو اور دوسری سخت پابندیاں نافذ کرنے کیلئے ہزاروں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار علاقے کی ویران سڑکوں پر گشت کرتے رہے۔
مقبوضہ وادی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے ۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے برسی کے موقع پر ایک ہفتے کے مظاہروں کے پروگرام کا اعلان کیا ہے۔
ہڑتال کی وجہ سے سری نگر جموں ہائی وے پر امر ناتھ یاتر اکو منسوخ کردیا گیا ہے۔
برہان وانی کے آبائی علاقے ترال کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو فوج کی بھاری نفری تعینات کرکے بند کردیا گیا ہے۔
ترال کے مکمل محاصرے کے باوجود سینکڑوں نوجوانوں نے قصبے کے علاقے شریف آباد میں برہان وانی کے مزار کی جانب مارچ کی کوشش کی۔
شوپیاں، پلوامہ ، کولگام اور دیگر علاقوں میں فوجیوں نے مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا اور نو خواتین سمیت درجنوں شہر ی پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے۔
سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک سمیت تمام مزاحمتی لیڈر بدستور گھروں میں نظر بند ہیں۔