صدر نے کہا کہ اسلام کے خلاف غلط تصور اور نظریات کے خاتمے کیلئے ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے

 مذہبی رہنما، دانشور اسلام کیخلاف منفی پراپیگنڈے کی روک تھام کیلئے متفقہ حکمت عملی وضع کریں: صدر ، وزیراعظم
08 اپریل 2017 (19:41)
0

صدر ممنون حسین نے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے کیلئے علمائے کرام اور دانشوروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی گروپ کے قیام پر زور دیا ہے۔

انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز اسلام آباد میں امام کعبہ الشیخ صالح محمد بن طالب سے ملاقات میں کہی۔
صدر نے کہا کہ اسلام کے خلاف غلط تصور اور نظریات کے خاتمے کیلئے ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو دہشتگردی اور انتہا پسند سوچ کو شکست دینے کیلئے متحد ہوجانا چاہئے۔
انہوں نے کہا پاکستان نے حرمین شریفین کے تقدس کے تحفظ کا عزم کررکھا ہے اور سعودی عرب کے خلاف کوئی بھی جارحیت پاکستان کے خلاف جارحیت تصور ہوگی۔
صدر نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات دوستی ، مذہب ، بھائی چارے اور ثقافتی بندھن میں منسلک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے علاقائی اور عالمی فورمز پر تنازعہ کشمیر سمیت تمام اہم امور پر ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ۔
صدر نے کہا کہ مذہبی تعلیمی اداروں کے نصاب کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے سفارشات مرتب کی جانی چاہئیں تاکہ امت مسلمہ اقوام عالم میں باوقار مقام حاصل کرسکے۔
اس موقع پر امام کعبہ الشیخ صالح محمد بن طالب نے کہا کہ اسلام ہر قسم کے تشدد اور انتہا پسندی کو مسترد کردتا ہے۔
انہوں نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ درپیش تمام بحرانوں کے حل کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرے۔
امام کعبہ شیخ صالح بن محمد بن طالب نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں وزیراعظم محمد نوازشریف سے بھی ملاقات کی ۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور سعودی عرب کا جغرافیائی محل وقوع مختلف ہے لیکن باہمی اسلامی اور ثقافتی اقدار نے ان کے دل یکجا کردیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام امن، محبت ، صبر وتحمل ، درگزر اور انسانیت کے احترام کا درس دیتا ہے اور اسلام کے اس پیغام کو عام کرنا وقت کا تقاضا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مذہبی رہنمائوں اور دانشوروں کو اسلام کے خلاف مذموم اور منفی پراپیگنڈے کی روک تھام کیلئے متفقہ حکمت عملی وضع کرنی چاہئے۔