ارکان پارلیمنٹ نے یمن کی جنگ کے خاتمے کے لئے سفارتکاری اور مذاکرات کاراستہ اختیار کیا جانا چاہئے۔

مشترکہ اجلاس کاحکومت پریمن کےمسئلےکےحل کیلئےدوسرےمسلمان ملکوں کےساتھ ملکرکام کرنے پرزور
08 اپریل 2015 (13:08)
0

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آج ارکان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ یمن کے مسئلے کے حل کے لئے دوسرے مسلمان ملکوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔انہوں نے کہا کہ یمن کی جنگ کے خاتمے کے لئے سفارتکاری اور مذاکرات کاراستہ اختیار کیا جانا چاہئے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یمن کی صورتحال پر بحث تیسرے روز بھی جا ری ر ہی۔اجلاس میں مشرق وسطی کی صورتحال کے بارے میں ایک قومی حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے سید مظفرحسین شاہ نے کہا کہ سعودی عرب کے اپنے ہمسایہ ملکوں میں صورتحال کے بارے میں خدشات جائز ہیں۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ یمن میں خانہ جنگی سے خطے کیلئے سنجیدہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران میں غیرجانبدار رہنا چاہئیے۔
سید طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ پاکستانی فوجی پہلے ہی دہشت گردوں کے خلاف مشکل جنگ میں مصروف ہیں اور ہم انہیں کسی دوسری جنگ میں دھکیلنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یمن میں متحارب گروپوں کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں کرنی چاہئیں۔افتخار الدین نے کہا کہ یمن کے بارے میں پاکستان کی پالیسی قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ یمن کے بارے میں متفقہ پالیسی وضع کرنے کیلئے ہمسایہ ملکوں کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یمن کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہئے تاہم یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کیلئے جو کچھ ممکن ہو وہ کریں۔عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ یمن کا بحران ایک حساس مسئلہ ہے اور مسلمان ملکوں اور اقوام متحدہ کو اس مسئلے کے پرامن حل کیلئے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب میں حرمین شریفین کو کوئی خطرہ نہیں تاہم ہمیں اپنے فوجی یمن نہیں بھیجنے چاہئیں۔

عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے اور اسے یمن میں حالات معمول پر لانے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئیے۔محمد الیاس بلور نے کہا کہ حکومت کو یمن میں امن بحال کرنے کیلئے دوسرے مسلمان ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ اگر یمن میں امن بحال نہ ہوا تو وہ داعش اور القاعدہ کا گڑھ بن سکتا ہے۔
ایوان کا اجلاس کل شام چار بجے پھر ہو گا۔