Wednesday, 14 November 2018, 10:13:07 pm
سینٹ کی بجلی ،گیس کی قیمتوں میں اضافےاورخارجہ پالیسی پر بحث
November 08, 2018

سینٹ نے آج دوسرے ملکوں سے قرض ،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور یمن کے مسئلے کے تناظر میں ملک کی خارجہ پالیسی سمیت ایجنڈا ٓیٹمز پر پھر بحث کی۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر جاویدعباسی نے گوادر میں ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کی کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر چیئرمین سینٹ اور سینٹ سیکرٹریٹ کے عملے کو سراہا۔ انہوں نے کہاکہ کانفرنس کے انعقاد سے دنیا میں بلوچستان اور پاکستان کا ایک اعتدال پسند تشخص اجاگر ہوا ہے۔

گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر زوردیا کہ وہ یہ اضافے واپس لے۔

سینیٹر اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ حکومت قرضوں کےحصول کے لئے مختلف ملکوں کے ساتھ معاہدوں بارے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے، انہوں نے کہا کہ یمن کے بارے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی قرار داد کااحترام کیا جانا چاہیے۔

عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی جانی چاہیے اور اس میں قومی مفادات کا تحفظ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقے طویل عرصے سے پانی کی قلت کا شکار ہیں جس پر قابو پایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مہنگائی کیلئے حکومت پر بھی نکتہ چینی کی۔

سینیٹر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی ملک کے ساتھ کسی بھی قسم  کا بڑا معاہدہ کرنے سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے گی تاہم چین اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے حالیہ معاہدوں کے حوالے سے یہ وعدہ پورا نہیں کیاگیا۔

 عوامی اہمیت کے نکتہ پرخطاب کرتے ہوئے سینیٹر محمد علی سیف، جنہوں نے حال ہی میں سیاچن کا دورہ کیا ہے کہا ہے کہ پاک فوج کے جوان انتہائی سخت موسم میں سیاچن پر ملکی سرحدوں کا دفاع کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سیاچن پرتعینات فوجیوں کی مراعات میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔

حزب اختلاف نے کورم کی نشاندہی کی، ارکان کی مطلوبہ تعداد نہ ہونے پر سینٹ کے چیئرمین نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔