Wednesday, 14 November 2018, 10:37:57 pm
وفاقی کابینہ کی ایف بی آر کی پالیسیاں مرتب کرنے کیلئے بورڈ قائم کرنے کی منظوری
November 08, 2018

اطلاعات ونشریات کے وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں ایک اجلاس میں وفاقی کابینہ کو چین کے اپنے کامیاب دورے پراعتماد میں لیا ۔

انہوں نے آج شام پارلیمنٹ ہائوس کے باہر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے کہا ہے کہ اس دورے سے پاکستان کو ادائیگیوں میں توازن پیداکرنے کے معاملے کو موثر طورپر حل کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کیلئے چین کی امداد کے قواعدوضوابط کوحتمی شکل دینے کیلئے تکنیکی امور جلد طے کئے جائیںگے ۔وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیرخزانہ اسد عمر بھی آئی ایم ایف سے ایک اور مالیاتی پیکج کے حصول کیلئے ادارے سے رابطے میں ہیں تاکہ مالیاتی بحران کوحل کیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ کابینہ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی تنظیم نو کی منظوری دی تاکہ اس کی کارکردگی بہت بہتر بنا کر اسکی املاک کو بہتر انداز میں بروئے کار لایاجاسکے ۔کابینہ نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کیلئے ایک معاہدے کی منظوری کے علاوہ احمد نواز سکھیرا کو سرمایہ کاری بورڈ کا سیکرٹری مقررکرنے کی بھی منظوری دی ۔وفاقی وزیر نے کہاکہ کابینہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی پالیسیاں وضع کرنے کیلئے ایک پالیسی بورڈ تشکیل دینے کی بھی منظوری دی ۔

ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی رپورٹ کے بعد برطانیہ کے پارلیمانی ادارے کی رپورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتھال کی نشاندہی کی ہے جہاں جاری بھارتی مظالم کے نتیجے میں کئی ایک معلوم اور گمنام قبریں سامنے آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کو سیاہ قوانین کے تحت مکمل آزادی سے کام کررہی ہیں اور بھارتی جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں کاٹنے والے کشمیریوں کو کائی قانونی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ترجمان نے وزیراعظم کے دورہ چین کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اعلی سطح کا پاکستانی وفد بیجنگ میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تذویراتی تعاون کو مزید بڑھانے کے بارے میں فنی امور اور طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائے۔دفترخارجہ کے ترجمان نے افغانستان کے بارے میں ماسکومیں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ایڈیشنل سیکرٹری کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد ان مذاکرات میں شرکت کریگا۔ترجمان نے کہا کہ طالبان رہنما ملاعبدالغنی برادر کو افغانستان میں امن اور مصالحتی عمل کو تحریک دینے کیلئے رہا کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے تمام فریقین کی شراکت کے ساتھ افغان مسئلے کے مذاکراتی حل پر زور دیتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکی اطلاعات کے مطابق یہ بات باعث تشویش ہے کہ افغانستان کی سیکورٹی صورتحال افغان انتظامیہ اور غیر ملکی افواج کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے۔