Friday, 20 September 2019, 11:01:08 am
بھارتی فوجیوں کا محرم کے جلوسوں میں شرکت کرنیوالوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال
September 08, 2019

مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے کرفیو اور دیگر پابندیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے محرم الحرام کے جلوسوں میں شرکت کی ۔بھارتی فورسز نے سرینگر اوربڈگام میں محرم الحرام کے جلوسوںکو روکنے کے لیے پیلٹ گن اورآنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیاجس سے کم از کم 12افرادزخمی ہوگئے۔جھڑپوں کے دوران بھارتی فورسز کے چھ اہلکار بھی زخمی ہوگئے۔بھارتی فورسز نے متعدد عزاداروں کو گرفتارکرلیا ۔ گزشتہ کئی روز سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ بھارتی فورسز محرم الحرام کے جلوسوں کو روکنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پولیس کی گاڑیاں لائوڈ سپیکروں پر لوگوں کو خبردارکررہی ہیں کہ وہ گھروںسے باہر نہ نکلیں۔ سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک اور اس سے ملحقہ علاقوں کے تمام داخلی راستے خاردار تاروں سے مکمل طورپربند کئے گئے ہیں اورشہریوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لیے بھارتی فورسز کی ایک بڑی تعداد ہر گلی کوچے میں تعینات ہے۔دریںا ثناء مقبوضہ علاقے میں آج مسلسل 35ویں روز بھی سخت فوجی محاصرہ جاری ہے جبکہ تمام بازار بند اورسڑکیں سنسان ہیں۔ وادی کشمیر میں انٹرنیٹ سروس اورموبائل فون مسلسل بند ہیںاور 5اگست سے وادی کشمیر کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ مقبوضہ علاقے کی تمام سیاسی قیادت نظربند ہے جبکہ کرفیو اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو بچوں کے لیے غذااور زندگی بچانے والی ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے اورہسپتالوں میں ادویات نایاب ہیں۔مریض سب سے زیادہ متاثر ہیں ۔پابندیوں کی وجہ سے مقامی صحافی کام نہیں کرپارہے اوروہ زمینی حقائق کو دنیا تک پہنچانے سے معذور ہیں۔ ادھر کشمیر سویٹاس تھنک ٹینک کے سیکرٹری جنرل فرحان مجاہد چک نے ایک ترک ٹیلیویژن چینل کو دیے گئے انٹرویو میں بھارتی حکومت کا یہ دعویٰ یکسر مسترد کردیا کہ مقبوضہ کشمیر میں لینڈ لائن فونز بحال کردیے گئے ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ بھارتی حکومت اس طرح کی جھوٹی خبریںدنیا بھرمیں پھیلاکر کشمیرپر اپنے ناجائز قبضے اور مظالم کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ وہ مقبوضہ علاقے میں اپنے اہلخانہ ، عزیزوں اور دوستوں سے رابطہ نہیں کرسکے ہیں۔ بھارتی ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے ہیومن رائٹس فورم کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن وی ایس کرشنا نے کہاہے کہ بھارتی حکومت نے 5اگست کو آئین کی دفعہ 370اور35Aکو منسوخ اور ریاست کو دو یونین ٹیریٹوریز میں تقسیم کرکے آئین کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ وی ایس کرشنا نے آندھرا پردیش کے شہر یمی ناگور میںکشمیر کے حوالے سے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل لاک ڈائون کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ تحریک آزادی کشمیر کا بنیادی مقصد ریفرنڈم کے وعدے کے مطابق کشمیریوں کے لیے حق خودارادیت کا مطالبہ ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ضلع گاندربل کے علاقے ووسن میں محاصرے اورتلاشی کی ایک کارروائی کے دوران بھارتی فوج کا ایک اہلکار دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوگیاہے۔