Monday, 10 August 2020, 04:42:34 am
دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے معروف نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کا چوتھا یوم شہادت منایا
July 08, 2020

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے آج معروف نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کا چوتھا یوم شہادت منایاجنہیں بھارتی فوجیوں نے 2016میں آج ہی کے دن ضلع اسلام آباد کے علاقے کوکر ناگ میں اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ماورائے عدالت قتل کیا تھا۔ 

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق برہان وانی اور ان کے ساتھیوں سرتاج احمد اور پرویز احمد کے یوم شہادت پر آج مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کی اپیل بزرگ حریت رہنما سیدعلی گیلانی اور کل جماعتی حریت کانفرنس نے کی تھی۔
سیدعلی گیلانی نے اپنے ٹویٹس میں برہان وانی کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی، جدوجہد اور شہاد ت آنے والی نسلوں کیلئے جرأ ت اورحوصلے کا باعث بنے گی۔
انہوں نے لوگوں پرزور دیا کہ وہ پیرکو بھی مکمل ہڑتال کریں اور پورے مقبوضہ علاقے میں شہداء کے قبرستانوں پر دعائیہ مجالس کا اہتمام کر کے شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کریں۔
غلام محمد خان سوپوری، امتیاز ریشی ، پیپلز فریڈم لیگ ، تحریک وحدت اسلامی اور اسلامی تنظیم آزادی سمیت حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے بھی برہان وانی اور دیگر شہدا ئے کشمیرکو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
قابض حکام نے لوگوں کو آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے روکنے کے لئے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی تھی۔
انہوں نے مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی تھی۔ احتجاجی مظاہروںکو روکنے کیلئے بہت سے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ادھر کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج برہان وانی کے یوم شہادت پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوان رہنما کشمیری عوام کے لئے آزادی اور جرات کی علامت بن گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے اب تک 28 خواتین سمیت ایک ہزار 237 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیاہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ان شہادتوں سے 100 خواتین بیوہ اور 227 بچے یتیم ہوگئے ہیں۔
دریں اثناء حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے زیر اہتمام آج اسلام آباد میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرے کی قیادت محمد فاروق رحمانی نے کی۔
مظاہرین نے شہید برہان وانی کی تصاویر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے درج تھے۔