تمام دکانیں ،کاروباری اور تعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ لوگوں نے بطور احتجاج سیاہ غبارے فضا میں چھوڑے۔

نریندر مودی کا دورہ: مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال
07 نومبر 2015 (20:39)
0

مقبوضہ کشمیر میں ہفتہ کے روزبھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورے کے خلا ف احتجاج کے لیے مکمل ہڑتال کی گئی ۔
تمام دکانیں ،کاروباری اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے خلا ف احتجاج کے لیے لوگوں نے سرینگر میں سیاہ غبارے فضا میں چھوڑے۔
قابض انتظامیہ نے اس موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کررکھے تھے اور سرینگر کوایک قلعے میں تبدیل کردیاگیا تھا۔ شہر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل تھی۔ انتظامیہ نے سرینگر اور دیگر بڑے قصبوں میں کرفیو اور پابندیا ں عائد کردی تھیں اور بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو بڑی تعداد میں تعینات کردیاگیا تھا
اس اقدام کا مقصد لوگوں کوسرینگر کے ٹی آر سی گرائونڈمیں ہونے والے ملین مارچ میں شرکت سے روکنا تھا۔ ملین مارچ کی اپیل بزرگ حریت رہنما سیدعلی گیلانی کی دی تھی اور دیگر حریت پسند رہنمائوں نے اس کی حمایت کی تھی۔
سرینگر ، بارہمولہ ، سوپور، کپواڑہ، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں لوگوں نے سخت پابندیوں کے باوجود بھارت کے خلاف مظاہرے کئے اور مارچ کرنے کی کوشش کی۔
تاہم بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے انہیں ٹی آر سی گرائونڈ کی طرف جانے سے روک دیا۔ بھارتی فورسز نے مختلف مقامات پر مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرکے کئی افراد کو زخمی کردیا۔
بھارتی پولیس نے سرینگر کے مختلف علاقوں میں سید علی گیلانی اور کئی حریت رہنمائوں اور کارکنوں کو اس وقت گرفتار کرلیا جب انہوں نے ٹی آرسی گرائونڈ کی طرف جانے کی کوشش کی۔
مارچ میں شرکت سے روکنے کے لیے باقی تمام حریت رہنمائوں کو گھروں یا تھانوں میں غیر قانونی طور پر نظربند رکھا گیا ۔ نام نہاد اسمبلی کے رکن انجینئر عبدالرشید نے نریندر مودی کے دورے کے خلاف اپنے گھر کے باہر سیاہ جھنڈا لہرایا تو ان کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
دریں اثنا ء حریت رہنمائوں میرواعظ عمر فاروق \' شبیر احمد شاہ\' نعیم احمد خان ظفر اکبر بٹ اور دیگرنے بھارتی وزیراعظم کے دورے کے خلاف مکمل ہڑتال کرنے پر لوگوں کی تعریف کی۔