وکیل حسین نواز کی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ یا حاضر سروس جج کی سربراہی میں آزاد کمیشن تشکیل دینے کی استدعا۔

حسین نوازتصویر، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے وضاحت طلب کرلی
07 جون 2017 (20:10)
0

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز پانامہ پیپرز مقدمے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ تحقیقاتی ٹیم میں پیشی کے وقت حسین نواز کی تصویر منظرعام پر آنے کے بارے میں اپنے موقف کی وضاحت کرے۔
جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عملدرآمد بنچ نے پانامہ عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث احمد نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ یا حاضر سروس جج کی سربراہی میں ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے جو ان کے موکل کی تصویر کے سوشل میڈیا پر جاری کرنے سے متعلق عوامل کا جائزہ لے۔
انہوں نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ وہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو ہدایت کی جائے کہ وہ کارروائی کی وڈیو ریکارڈنگ فوری طور پر روک دیں جس میں بیان کی ریکارڈنگ اور گواہوں کی تفتیش شامل ہے۔
عدالت نے ٹیم سے کہا کہ وہ حسین نواز کی درخواست پر اپنا جواب داخل کرے۔ عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاء نے اپنی دوسری رپورٹ پیش کی۔