وزیرخزانہ نے کہاکہ صوبے کو قابل تقسیم وفاقی محاصل میں سے 326 ارب روپے ملیں گے۔

 خیبر پختونخوا کا 6 کھرب روپے سے زائد کا بجٹ پیش
07 جون 2017 (17:24)
0

خیبرپختونخوا کا نئے مالی سال کے لئے چھ سو تین ارب روپے کا بجٹ بدھ کے روز پشاور کی صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ نے کہاکہ صوبے کو قابل تقسیم وفاقی محاصل میں سے تین سو چھبیس ارب روپے ملیں گے جو گزشتہ مالی سال میں ملنے والی رقم سے گیارہ فیصد زیادہ ہے صوبے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے وفاقی حکومت کی طرف سے انتالیس ارب روپے سے زائد رقم بھی ملے گی۔
یہ رقم بھی2016-17 ء کے مالی سال میں ملنے والی رقم سے گیارہ فیصد زیاد ہ ہے۔
صوبے کو تیل اور گیس کی رائلٹی کی مد میں 24 ارب روپے سے زائد ملیں گے جوگزشتہ مالی سال کی نسبت43 فیصد زیادہ ہے۔
مظفر سید ایڈووکیٹ نے کہا کہ خیبرپختونوا کو بجلی سے ہونے والے خالص منافع کے طور پربیس ارب 78 کروڑ روپے ملیں گے اور اس کے بقایاجات کے طورپر پندرہ ارب روپے دیئے جائیں گے۔
صوبے کے اپنے محصولات کا تخمینہ45 ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے دو سو آٹھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جوگزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیاد ہ ہیں۔

ایک سو ستائیس ارب روپے تعلیم کے فروغ کیلئے رکھے گئے ہیں۔ صوبے بھرمیں چار سو سے زائد نئے پرائمری سکول کھولے جائیں گے اور چودہ ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے

صحت کی سہولیات میں اضافے کیلئے انجاس ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔
مظفر سید ایڈووکیٹ نے کہا کہ پولیس کیلئے تقریباً چالیس ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے امن وامان کی صورتحال بہتر ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں کئی پن بجلی گھر مکمل کئے جائیں گے جن سے ایک ہزار پانچ سو 33 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پشاور میں اس سال اگست میں ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا جو آٹھ ماہ میں ترپن ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نوشہرہ ، ڈیرہ اسماعیل خان ، کرک اور مانسہرہ میں پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چار اقتصادی زون قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اقتصادی راہداری کے تحت کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان ریلوے لائن بچھانے اور چکدرہ گلگت کے درمیان براستہ چترال سڑک تعمیر کرنے کی منظور دیدی ہے۔
مظفرSaid ایڈووکیٹ نے کہا کہ نئے مالی سال میں ضلعی حکومتوں کو ترقیاتی سکیموں کیلئے اٹھائیس ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔
انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافے اور 2010 کا ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔
حزب اختلاف نے اپنے حلقوں میں ترقیاتی سکیموں کے فنڈز میں امتیازی سکول کے خلاف احتجاجاً وزیر خزانہ کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔