جماعت اسلامی کےامیرسراج الحق نےکہاکہ پاکستان ،ترکی اور ایران کو سعودی عرب اوریمن کے درمیان تنازعے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئیے۔

پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں یمن کی صورتحا ل پربحث
07 اپریل 2015 (14:30)
0

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت یمن کے مسئلے کے بارے میں اپنی پالیسی کو پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق حتمی شکل دے گی۔  انہوں نے منگل کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یمن کے بحران پر ایوان سے رہنمائی چاہتے ہیں اور اس کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا۔


انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت نے اب تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔  وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت سنجیدگی سے ارکان سے آراء طلب کررہی ہے اور یمن کے بارے میں ان کی تجاویز کو پالیسی کا حصہ بنائے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اس مسئلے پر پارلیمنٹ کے ساتھ فوج سے بھی رابطہ رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کوئی بھی حقیقت پارلیمنٹ سے پوشیدہ نہیں رکھے گی۔


نوازشریف نے کہا کہ حکومت ترک قیادت کی طرف سے اس کی ایران اور سعودی عرب سے ملاقاتوں کے بعد ردعمل کا انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں کشیدگی کم کرنے کے طریقے تلاش کرنے کیلئے پاکستان 'ترکی کے علاوہ انڈونیشیا اور ملائیشیا کی قیادت سے بھی مشاورت کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سا لمیت کو درپیش کسی بھی خطرے کی صورت میں اس کے شانہ بشانہ کھڑاہوگا۔

 

اس سے پہلے آج دوسرے روز بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یمن کے مسئلے پر بحث جاری رہی۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رہنماء میرحاصل خان بزنجو نے کہا کہ حکومت کو یمن کے بحران کے حل کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئیے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پوری عرب دنیا اور ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کیلئے دانشمندانہ سوچ اپنانی چاہئیے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان ، ترکی اور ایران کو یمن کے درمیان تنازعے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ایک پارلیمانی وفد تشکیل دیا جائے اور اسے یمن کے بحران کاحل تلاش کرنے کیلئے مختلف اسلامی ملکوں میں بھیجا جائے۔


عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء غلام احمد بلور نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ انتہائی شاندار تعلقات ہیں جس نے مشکل کی ہر گھڑی میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنماء مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب نے مختلف اوقات میں پاکستان کی فراخدلانہ مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمیاں ختم کرانے کیلئے ان کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی مشترکہ طور پر میزبانی کرنی چاہئیے۔

 

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو یمن کے معاملے پر فیصلہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا چاہئیے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے فوجی امداد کی درخواست کے جواب میں پاکستان سعودی عرب کو پہاڑی علاقوں میں فوجیوں کی تربیت ' انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور طبی امداد کی پیشکش کرسکتاہے۔ ڈاکٹر غازی گلاب جمال نے کہا کہ اسلامی تعاون کی تنظیم کو سعودی یمن تنازعے کے حل میں قائدانہ کردار اداکرنا چاہیے۔

اعجاز الحق نے تجویز پیش کی کہ مسلم ممالک اس امن فوج کے قیام کی تجویز پر غور کرنے کیلئے بڑے اسلامی ممالک کے اجلاس بلانا چاہیے۔  ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ مسلم اُمہ کے درمیان تنازعات نے اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور ہمیں اپنے اندرونی معاملات کو ٹھیک کرنے پر توجہ مرکوزکرنی چاہیے۔


پارلیمنٹ کا اجلاس اب کل صبح ساڑھے دس بجے ہوگا۔