سینیٹ میں قائدحزب اختلاف اعتزازاحسن نےگزشتہ روز بحث کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یمن کے بحران کے پرامن حل کیلئے کلیدی سفارتی کردار ادا کرسکتا ہے۔

پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں یمن کی صورتحا ل پربحث جاری
07 اپریل 2015 (10:29)
0

یمن کے بحران پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بحث آج بھی جاری ہے۔۔ سپیکر سردار ایاز صادق اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

گزشتہ روزمعاملے پر بحث کا آغازکرتے ہوئے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان یمن کے بحران کے پرامن حل کیلئے کلیدی سفارتی کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا بحران طاقت کے استعمال کی بجائے پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بحران انتہائی اہم مرحلے پر ہے اور اس کا سفارتی طور پر حل تلاش کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔


اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیراعظم کو اس سنگین بحران کے قابل قبول حل کی تلاش کیلئے اسلامی تعاون تنظیم کے ارکان کو متحرک کرنے کے ساتھ اسلامی ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کرنی چاہئے اور ایک مذاکراتی فورم تشکیل دینا چاہئے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئےمولانا فضل الرحمن نےحکومت سے کہا کہ وہ بحران کے پرامن حل کیلئے ثالث کا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو موجودہ بحران میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئے۔


تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یمن کے مسئلے کے حل کیلئے سفارتکاری کو اولین ترجیحی دینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یمن میں مذاکرات کے ذریعے امن بحال کرنے کیلئے مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کا بحران انتہائی سنگین ہے جس پر پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کی ضرورت ہے۔ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یمن کے مسئلے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر حکومت نے درست اقدام کیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے یمن اور سعودی عرب دونوں قابل احترام ملک ہیں لیکن معاملے پر کوئی بھی موقف اختیار کرتے ہوئے ہمیں اپنے قومی مفاد کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔