نواز شریف نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ سعودی عرب کی علاقائی خودمختاری کو کوئی خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔

حکومت منتخب نمائندوں کےجذبات کومدنظررکھ کرپالیسی تشکیل دےگی:وزیراعظم
07 اپریل 2015 (14:51)
0

 وزیراعظم محمدنواز شریف نےکہا ہے کہ پاکستان اور ترکی مشرق وسطیٰ کے بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کیلئے ایک دوسرے سے قریبی رابطے میں ہیں۔آج اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی کے صدر نے سعودی عرب کے وزیر داخلہ کے ساتھ بات چیت کی اور توقع ہے کہ وہ آج ایران کے صدر کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ توقع ہے کہ ترک صدر انہیں اس بات چیت کے بارے میں اعتماد میں لیں گے جس کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر انڈونیشیا اور ملائیشیا کی قیادت کے ساتھ بھی رابطہ کریں گے انہوں نے کہا کہ ایران کو یمن سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو یقین دلایا کہ حکومت منتخب نمائندوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے بحران کے حوالے سے اپنی پالیسی تشکیل دے گی۔


انہوں نے کہا کہ حکومت نے پارلیمنٹ سے کوئی چیز چھپائی نہیں تاہم یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور ہمیں انتہائی احتیاط کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فوج کے ساتھ بھی مشاورت کی اور دفتر خارجہ بھی فعال کردار کر رہا ہے نواز شریف نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ سعودی عرب کی علاقائی خودمختاری کو کوئی خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔