Monday, 11 December 2017, 10:14:12 pm
دنیابھرمیں مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنےکاڈونلڈٹرمپ کافیصلہ مسترد
December 07, 2017

دنیا بھر میں عرب اور مسلمان رہنمائوں،یورپی یونین اوراقوام متحدہ نے امریکی صدر کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر نے اور امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کو مسترد کر دیا ہے ۔

سعودی عرب نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ایک بیان میں سعودی عرب نے کہاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کااعلان بلاجواز اور غیرذمہ دارانہ ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے کہاکہ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے امن کی کوششوں کیلئے ثالث کے کردار سے دستبر دار ہونے کے مترادف ہے۔ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہاکہ یہ فیصلہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کی کوششوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا ۔ایران نے عالمی برادری خصوصاً اسلامی ملکوں پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے اس فیصلے پر عملدر آمد روک دیں ۔چین نے اپنی تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اس فیصلے سے نئی جنگ چھڑ سکتی ہے ۔برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے فیصلے سے اختلاف کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس سے امن کی کوششوں میں کوئی مدد نہیں ملے گی ۔روس نے کہا کہ اس فیصلے سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بحران کے حل کی کوششیں بری طرح متاثر ہونگی ۔فرانسیسی صدر ایمانیول میکخواں نے کہاکہ فرانس اس یکطرفہ اور افسوسناک فیصلے کی حمایت نہیں کرتا ۔جرمنی نے کہا کہ وہ امریکی موقف کی حمایت نہیں کریگا کیونکہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت کا کوئی بھی فیصلہ دو ریاستی حل پر مبنی نہیں ہوگا ۔

ادھریورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکارفیڈریکا مغرینی نے صدر ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔برسلز میں ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ فلسطین اور اسرائیل کی خواہشات کی تکمیل ہونی چاہیے اوردونوں ملکوں کے درمیان یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانے کے تنازعے کے خاتمے کے لئے مذاکرات کے ذریعے کوئی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں ۔برلن میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔اسی طرح غزہ ،مغربی کنارے،لبنان ،اردن اور ترکی میں بھی مظاہرے کئے گئے ۔ادھر امریکہ ،جرمنی اور فرانس نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کے دورے میں احتیاط کریں۔