Friday, 18 October 2019, 11:40:17 am
کشمیراورجموں کےمسلمان اکثریتی علاقوں میں مسلسل 64 ویں روزفوجی محاصرہ جاری
October 07, 2019

مقبوضہ وادی کشمیر او ر جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں فوجی محاصرہ اور ذرائع مواصلات کی معطلی مسلسل 64ویں دن بھی جاری رہی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان پابندیوں کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے ۔مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکناف میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور جگہ جگہ رکاوٹیں اور خارد ار تاریں بچھانے کی وجہ سے وادی کشمیر ایک جیل کا منظر پیش کررہی ہے ۔ مسلسل محاصرے کی وجہ سے لوگوں کو اشیائے ضرویہ کی شدید قلت کاسامنا ہے ۔

سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے تمام دروازے نمازیوں کے کیلئے بند ہیں ۔ گزشتہ 64روز کے دوران سخت پابندیوں کی وجہ سے نماز جمعہ سمیت مساجد میں کوئی بھی نماز ادا نہیں کی جاسکی ہے ۔ دکانیں ،تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔

ادھر سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہاہے کہ درجنوں مریض پابندیوں کی وجہ سے ایمبولینس دستیاب نہ ہونے اور بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سخت پابندیوں اور ادویات کی قلت کی وجہ سے گزشتہ دو ماہ کے دوران مریضوں کے آپریشنوں میں پچاس فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ڈاکٹروں نے کہاکہ موبائل فون سروس کی معطلی کی وجہ سے ان کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔

نئی دلی میں ماہرین تعلیم ، صحافیوں اور سیاسی رہنما ئوں سمیت 284افراد نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ایک بھارتی وزیر اعظم اور صدر کے نام ایک عرضداشت میں مقبوضہ علاقے میں جاری موجودہ پابندیوں کو ناقابل قبول قراردیا ہے ۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ موبائیل اور انٹرنیٹ کنکشن بحال کرے ۔ یاد رہے کہ مواصلاتی بندش کو حال ہی میں کیرالہ ہائی کورٹ نے بنیادی حقوق کے منافی قراردیا ہے ۔

ادھر بھارتی ریاست ناگالینڈ کی سب سے پرانی آزادی پسند تنظیم کے رہنما Thuingaleng Muivahنے ایک میڈیا انٹرویو میں کہاہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا بھارتی حکومت کا اچانک فیصلہ ناقابل قبول ہے۔