Thursday, 22 October 2020, 02:11:30 pm
سینیٹر فیصل جاویدکی قومی وعالمی اہمیت کے امور کی بروقت کوریج پر ریڈیو پاکستان کے سوشل میڈیا کی تعریف
September 07, 2020

اطلاعات و نشریات کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید خان نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر قومی و عالمی اہمیت کے امور کی بروقت اور موثر کوریج کرنے پر ریڈیو پاکستان کے سوشل میڈیا کے شعبے کی زبردست تعریف کی ہے۔ 

پیر کے روز نیشنل براڈ کاسٹنگ ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید دور کے اُبھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کسی بھی میڈیا ہاؤس کا موثر سوشل میڈیاوقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب اور انسٹاگرام سمیت ریڈیو پاکستان کے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالورز کی موجودگی کو بھرپور انداز میں سراہا ۔
سینیٹر فیصل جاوید نے اینڈرائڈ اور آئی فون صارفین کے لیے ریڈیو پاکستان کی سوشل میڈیا اپیز کو بھی اُجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے ریڈیو پاکستان کے سامعین اِن ایپز سے نیشنل براڈ کاسٹنگ کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ریڈیو پاکستان ایک قومی اثاثہ ہے اور وہ اقوام عالم میں ملک کے مثبت تشخص کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
سینیٹر فیصل جاوید نے علاقائی زبانوں میں بچوں سے جبری مشقت اور خواتین کو ہراساں کرنے جیسے عوامی مسائل پر ریڈیو پاکستان پر خصوصی عوامی مہم شروع کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کو ایک اہم ذریعے کی حیثیت سے مباحثوں پر مبنی خبروں اور پروگرام پروڈکشن پر توجہ دینی چاہیے جن میں عام عوام ، اعلیٰ حکام اور منتخب نمائندے شامل ہیں۔
چیئرمین نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کو آمدن پیدا کرنے کے لیے مارکیٹنگ کی موثر حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے باصلاحیت لوگوں کو متعارف کرانے کے علاوہ پروگرام اور خبروں کی تیاری اور پریزینٹیشن کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان نے خبروں اور پروگرام کے شعبوں میں بڑی تعداد میں مایہ ناز براڈ کاسٹرز تیار کیے ہیں اور اس روایت کو تجدید عزم کے ساتھ برقرار رکھا جانا چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ریڈیو پاکستان کی عظیم و تاریخی روایات کے تحت معیاری ڈرامے تیار کیے جائیں۔
کمیٹی کے دیگر ارکان نے قدرتی آفات کے دوران جانی اور مالی نقصانات کو کم کرنے کے لیے ریڈیو پاکستان ، قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے اور محکمہ موسمیات کے درمیان قریبی رابطے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے پینشنرز کے مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے وزارتِ اطلاعات و نشریات سے متعلقہ مختلف صحافتی اداروں کے علاقائی معاملات کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات کے حصول کے لیے صوبائی ہیڈ کوارٹر ز میں کمیٹی کے اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات اکبر حسین درانی نے کمیٹی کو بتایا کہ دس ارب روپے سے زائد کی لاگت سے تین مراحل پر مشتمل ایک جامع پالیسی حتمی مرحلے میں ہے جس کا مقصد ایک اسٹرٹیجک اہداف کے حصول کے لیے اعلیٰ معیار کے ساتھ ریڈیو پاکستان کی نشریات کا دائرہ وسیع کرنے کی غرض سے ڈیجٹیل ریڈیو مائیگریشن کی پالیسی وضع کرنا ہے۔
اس سے قبل ریڈیو پاکستان کی ڈائریکٹر جنرل عمبرین جان نے ریڈیو پاکستان کے مختلف شعبوں کے کام کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان ملک بھر میں آٹھ اے ایم اور ایف ایم چینلز کے ذریعے 32براڈ کاسٹنگ ہاؤسز سے مصدقہ خبریں اور پروگرام نشر کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ 20لاکھ منٹ ریکارڈنگز کی ڈیجٹلائزیشن کا عمل جاری ہے اب تک 7لاکھ 80ہزار منٹ کو ڈیجٹلائز کیا جاچکاہے۔
بعد ازاں اطلاعات و نشریات کمیٹی کے اراکین نے ریڈیو پاکستا ن میں نئے نصب کیے گئے تاریخی یادگار مارکونی ٹرانسمیٹر کا دورہ کیا اور اس منصوبے میں گہری دلچسپی ظاہر کی اراکین کو بتایا گیا کہ 13اور 14اگست 1947کی درمیانی شب اس ٹرانسمیٹر سے تخلیق پاکستان کا اعلان کیا گیا۔