Wednesday, 23 September 2020, 02:01:08 am
کافی گائیکی کی ملکہ زاہدہ پروین کی برسی
May 07, 2020

رپورٹ:سجاد پرویز

 

کلاسیکی گلوکارہ زاہدہ پروین کی وجہ شہرت کافی گائیکی کو کلاسیکی موسیقی کے انگ سے ہم آہنگ کرنا ٹھہرا۔ زاہدہ پروین 1925 میں امرتسر میں پیدا ہوئیں۔
زاہدہ پروین نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم بابا تاج کپورتھلہ والے سارنگی نواز سے حاصل کی بعد ازاں وہ تقریباً سات برس تک استاد حسین بخش خاں امرتسر والے سارنگی نواز سے گائیکی کے اسرار و رموز سیکھتی رہیں۔
ان دونوں استادوں کے بعد وہ استاد عاشق علی خان پٹیالہ والے کی شاگرد بنیں بعد ازاں انہوں نے کچھ عرصہ استاد اختر علی خان سے بھی اکتساب فیض کیا۔
زاہدہ پروین خیال گائیکی پر مکمل عبور رکھتی تھیں مگر ان کے جوہر کافی کی گائیکی میں کھلے۔
زاہدہ پروین نے خواجہ غلام فرید کی کافیوں کو پہلی بار کلاسیکی موسیقی کے مطابق ترتیب دیا اور ان کی کافی
کی حال سناواں دِل دا سے شہرت پائی ۔
انہیں حضرت خواجہ غلام فرید کے کلام سے عشق کی حد تک لگائو تھا جب انہوں نے خود کو خواجہ صاحب کی کافیوں کے لیے مخصوص کر دیا تو پھر وہ کافی گائیکی کی بلا شرکت غیرے بے تاج ملکہ بن گئیں۔
اپنے عہد کے مایہ ناز کلاسیکل گائیکوں سے استفادہ کے باعث زاہدہ پروین کی گائیکی میں صحراں سی وسعت اور روحانیت در آئی تھی۔ زاہدہ پروین کو بھیرویں، پیلو، سندھڑا، جوگ، مالکونس، پہاڑی، تلنگ، ایمن، جونپوری، باگیشری، کیدارا اور بھیم پلاسی سے بے پناہ لگا تھا ۔
1947 میں قیام پاکستان کے بعد وہ امرتسر سے لاہور آگئیں اور یہاں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئیں۔ ان کے کلاسیکی موسیقی کے پروگرام بغیر کسی تعطل کے نشر ہوتے رہے۔ 1964 میں انہیں آل پاکستان میوزک کانفرنس میں طلائی تمغے سے نوازا گیا۔ انہوں نے بطور پلے بیک سنگر متعدد فلموں کے لیے گیت بھی گائے۔ زاہدہ پروین نے غزل کی گائیکی میں بھی ایک خاص رنگ پایا تھا۔ مئی 1975 کو 50 سال کی عمر میں زاہدہ پروین لاہور میں انتقال کر گئیں