ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کے ہاتھوں اب تک ایک سو دس شہری شہید اور پندرہ سو زخمی ہو چکے ہیں۔

عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف ظلم وستم کا سلسلہ بند کرانے میں تعاون کرے: پاکستان
06 اکتوبر 2016 (15:13)
0

پاکستان نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف ظلم وستم کا سلسلہ بند کرانے میں تعاون کرے ۔آج اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ دنیا کو بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کا فوری طور پر نوٹس لینا چاہئیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی نے ادویات ، خوراک ، پانی اور روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی فوج کے ہاتھوں اب تک ایک سو دس شہری شہید اور پندرہ سو زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کی پوری قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے اور ان کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ کشمیریوں کی حالت زار عالمی برادری کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور ارکان پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنی حکومتوں اور عوام کو کشمیریوں کے خلاف بھارتی بربریت کے بارے میں احساس دلا رہی ہیں۔
ترجمان نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے سے متعلق ایک اخبار میں قیاس آرائیوں پر مبنی شائع ہونے والے مضمون کو مسترد کر دیا۔ایک سوال پر نفیس ذکریا نے کہا کہ پاکستان بھارت کے دھمکی آمیز بیانات اور سندھ طاس معائدے کے بارے میں رویے کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا بھرپور جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ وقتی نہیں تھا اور پاکستان اور بھارت دونوں معاہدے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ تبدیل یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغانستان کے بارے میں برسلز کانفرنس کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی ، چیف ایگزیکٹو عبداﷲ عبداﷲ اور وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فریقین نے چافریقی گروپ کے کردار سمیت افغانستان میں امن واستحکام کیلئے کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔