مسلم لیگ ن کے رہنماء عبدالقیوم نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کے حل تک جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

 پارلیمنٹ کاکشمیریوں کی سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ
06 اکتوبر 2016 (12:34)
0

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کنٹرول لائن پر بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سمیت مسئلہ کشمیر پر بحث کا دوبارہ آغاز کیا گیا۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء عبدالقیوم نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل تک جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں اور دنیا کی تمام محکوم اقوام کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء سید نوید قمر نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم کسی بھی غیرملکی جارحیت کے خلاف متحد ہے۔انہوں نے کشمیر میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کیلئے ایک موثر اور فعال خارجہ پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔الیاس احمد بلور نے کہا کہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی مکمل طور پر کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے۔
انہوں نے کہا کہ شیوسینا پاکستان کو دھمکیاں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور ہمسایہ اور مسلمان ملکوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے جانے چاہئیں۔

پختونخواء ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔سینٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ بھارت کی طرف سے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مادروطن کے دفاع کے لئے حکومت کا بھرپور ساتھ دے گی۔
مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ سات لاکھ بھارتی فوج اپنی بربریت کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیردنیا کا اہم مسئلہ بن گیا ہے اور حکومت نے کلبھوشن یادیو سے متعلق شواہد پر مبنی ثبوت اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے حوالے کر دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حق خودارادیت کے حصول کیلئے کشمیری عوام کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔