سینٹ بعض ترامیم کے ساتھ پہلے ہی یہ بل منظورکرچکی ہے۔

قومی اسمبلی نے انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ کی متفقہ منظوری دیدی
06 جون 2014 (20:29)
0

قومی اسمبلی نے جمعہ کے روز انسداد دہشت گردی کے ترمیمی ایکٹ مجریہ دوہزار چودہ کی متفقہ منظوری دی جس کا مقصد سنگین جرائم سے نمٹنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کومزید موثر بنانا ہے ۔
امور کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزیر چوہدری برجیس طاہرکی طرف سے پیش کئے گئے اس بل میں انسداد دہشت گردی کے قانون مجریہ انیس سو ستانوے میں ترمیم کی گئی ہے ۔
سینٹ بعض ترامیم کے ساتھ پہلے ہی یہ بل منظورکرچکی ہے۔
بل میں رینجرز کوتفتیشی اختیارات دینے ، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو قانونی تحفظ دینے ، بھتہ خوری کے مقدمات میں پولیس کے مدعی بننے اور ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے گواہوں کو تحفظ دینے جیسی خصوصی ترامیم شامل کی گئی ہیں ۔
ترمیمی بل کے تحت انسداد دہشت گردی کے قانون میں ایک نیا سیکشن شامل کیاگیا ہے جس کے تحت مبینہ جرم کے ارتکاب پرکسی شخص کو بددیانتی اور جھوٹے طورپر گرفتاریاشامل کرنے والی تفتیشی افسر کو دوسال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔
قومی اسمبلی میں نئے وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ عوام کی امنگوں کا عکاس ہونا چاہئیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ بجٹ کی تیاری میں حزب اختلاف کی تجاویز لی جائیں۔
سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت نے ختم ہونے والے مالی سال میں محصولات کا ہدف دو ہزار چار سو پچھتر ارب روپے مقرر کیا تھا لیکن آئی ایم ایف کے اصرار پر اسے کم کر کے دو ہزار دو سو پچھتر ارب روپے کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تیس مئی دو ہزار چودہ تک ایک ہزار نو سو پچاس ارب روپے اکٹھے کئے اور ہدف کے حصول کیلئے ابھی بھی تین سو پچیس ارب روپے اکٹھے کرنے کی ضرورت ہے۔
خورشید شاہ نے صوبوں کی مالی حالت بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ وہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اپنی ضرورتیں پوری کر سکیں۔
قائد حزب اختلاف کی تقریر جاری تھی کہ ایوان کا اجلاس پیر سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا