سینٹ میں قائد ایوان نے کہاکہ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی روشنی میں طالبان سے مذاکرات شروع کرنیکا فیصلہ کیا ۔

حکومت بات چیت کیلئے آمادہ طالبان گروپوں سے مذاکرات کرےگی
06 جون 2014 (20:15)
0

حکومت نے کہا ہے کہ طالبان کے ایسے گروپوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیںگے جو بات چیت کیلئے آمادہ ہیں جبکہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے یہ بات جمعہ کے روز ایوان میں مختلف ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں کہی گئی ۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی روشنی میں طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ۔
سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کی طالبان سے مذاکرات اور ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پالیسی بہت واضح ہے۔
مختلف ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس کے بعد طالبان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے مختلف دھڑے ہیں جن کے اپنے اپنے علاقے اور قیادت ہے اور وہ الگ الگ اپنے فیصلے کرتے ہیں۔
راجہ ظفرالحق نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کے دورہ امریکہ کے بعد ڈرون حملے رک گئے ہیں جسے انہوں نے ایک اچھی پیشرفت قراردیا ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے گی جو بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی جنہوں نے دہشت گردی کی کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا ہے۔
راجہ ظفرالحق نے کہا کہ فاٹا میں ترقی اور انتظامی اصلاحات کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ علاقے کے لوگوں کو اس قابل بنایا جا سکے کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
ایک نکتہ اعتراض پر انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے مکینوں کو درپیش پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔
ایوان کا اجلاس اب پیر کو شام پانچ بجے ہو گا۔