سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس پیر کی شام تک ملتوی کر دیئے گئے۔

 قومی اسمبلی میں بجٹ پرعام بحث پیرکو جاری رہے گی
06 جون 2014 (09:43)
0

قومی اسمبلی میں نئے وفاقی بجٹ پر عام بحث پیر کو بھی جاری ر ہے گی ۔ ایوان کا اجلاس آج(جمعہ ) صبح سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اسلام آباد میں شروع ہوا ۔
قائدحزب اختلاف سیدخورشید شاہ نے وفاقی بجٹ پر بحث کا آغاز کیا۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نےکہا کہ بجٹ عوام کی امنگوں کا عکاس ہونا چاہئیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ بجٹ کی تیاری میں حزب اختلاف کی تجاویز لی جائیں۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت نے ختم ہونے والے مالی سال میں محصولات کا ہدف دو ہزار چار سو پچھتر ارب روپے مقرر کیا تھا لیکن آئی ایم ایف کے اصرار پر اسے دو بار کم کر کے دو ہزار دو سو پچھتر ارب روپے کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تیس مئی دو ہزار چودہ تک ایک ہزار نو سو پچاس ارب روپے اکٹھے کئے اور ہدف کے حصول کیلئے ابھی تک تین سو پچیس ارب روپے اکٹھے کرنے کی ضرورت ہے۔
خورشید شاہ نے زور دیا کہ بجٹ میں پسماندہ علاقوں پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئیے۔ انہوں نے صوبوں کی مالی حالت بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ وہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اپنی ضرورتیں پوری کر سکیں۔

 

  ایوان نے تین بلوں کی بھی منظوری دی۔ان بلوں میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2014 ، لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ترمیمی بل 2014 اور دی سروس ٹربیونل ترمیمی بل 2014 شامل ہیں۔سینٹ پہلے ہی ان بلوں کی منظوری دے چکا ہے۔امور کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزیر چوہدری برجیس طاہر نے یہ بل پیش کئے۔اجلاس کے آغاز پر سابق رکن قومی اسمبلی میاں محسن قریشی کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

 

سینٹ کا اجلاس بھی دوبارہ شروع ہو ا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی پہلے سے پیش کی گئی تحریک پرغور کیا اورآئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے قومی اسمبلی کیلئے سفارشات پیش کی گئیں ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 4اورسینیٹ کااجلاس شام 5بجے تک ملتوی کردیاگیا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ پیر کو بھی قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث جاری رکھیں گے ۔