نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ پاکستان ہمسایہ ملک میں قیام امن کیلئے تمام کوششوں میں مدد دینے کیلئے تیار ہے۔

حقانی نیٹ ورک افغانستان سے کارروائیاں کر رہا ہے،پاکستان
06 جولائی 2017 (15:34)
0

دفتر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار ، داعش اور القاعدہ سمیت کوئی منظم دہشت گرد تنظیم موجود نہیں ہے۔آج اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے قبائلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی محض بہتان ہے جس کا مقصد اپنی ناکامی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے کئی کمانڈروں کی ہلاکتوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ گروپ افغانستان میں موجود ہے اور پاکستان سے نہیں بلکہ وہیں سے کارروائیاں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائیوںکی بدولت دہشتگرد فرار ہو رہے ہیں اور ان کے ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے ہیں اور ملک میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
نفیس ذکریا نے کہا کہ سنیٹر جان مکین کی سربراہی میں امریکی وفد نے دورے کے دوران افغانستان سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن واستحکام پاکستان میں امن واستحکام سے براہ راست منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ملک میں قیام امن کیلئے تمام کوششوں میں مدد دینے کیلئے تیار ہے انہوں نے کہا کہ دوسری جانب بھارت افغانستان کے مسئلے کا حصہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اﷲ خامنہ ای کے حالیہ بیان کا خیرمقدم کرتا ہے جس میں انہوں نے مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے محکوم عوام کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ پوری امت مسلمہ کو بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت نہتے کشمیریوں کو شہید کرنے اور ان کی املاک تباہ کرنے کے لئے کیمیائی مواد کے حامل ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
مختلف ملکوں کی طرف سے بھارت کو جدید اسلحے کی فروخت سے متعلق ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو اس معاملے پر گہری تشویش ہے کیونکہ اس سے خطے میں تزویراتی توازن قائم رکھنے کے اہداف کو نقصان پہنچے گا۔