247ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا اورکسی نے اس کی مخالفت نہیں کی ۔

قومی اسمبلی میں 21ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پرمنظور
06 جنوری 2015 (12:49)
0

 قومی اسمبلی نے آج دوبلوں کی دوتہائی اکثریت سے منظوری دی۔یہ بل اکیسویں آئینی ترمیم اورآرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم سے متعلق ہیں ۔ان بلوں کی منظوری سے حکومت کوفوجی افسروں کی سربراہی میں قائم خصوصی عدالتوں کے ذ ریعے دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلانے کااختیارمل گیاہے۔

یہ بل قانون ،انصاف اورانسانی حقوق کے وزیرپرویزرشیدنے پیش کئے ۔ دوسوسینتالیس ارکان نے بلوں کے حق میں ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔پاکستان تحریک انصاف،جمعیت علماء اسلام(ف)اورجماعت اسلامی نے ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔

بل میں کہاگیاہے کہ موجودہ غیرمعمولی صورتحال اورحالات غیرمعمولی اقدامات کاتقاضاکرتے ہیں جن میں دہشت گردی اورریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے سے متعلق بعض جرائم کے مقدمات تیزی سے چلانے اورایسے دہشت گرد گرپوں ،مسلح جتھوں کے ارکان ،ونگزاورملیشیاء کی طرف سے مذہب یافرقے کی بنیاد پرکی جانے والی کارروائیوں کوروکناہے جوپاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ ایکٹ کی شقیں اپنے نفاذکی تاریخ سے دوسال کی مدت کیلئے موثررہیں گی۔

قومی اسمبلی کااجلاس کل (بدھ ) صبح 11بجے تک ملتوی کردیاگیا۔