نواز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے ملک میں نئے قوانین کی پوری قوت سے نافذ کرنے کے حکومت کے عزم کا اظہار کیا۔

دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل سے امن کے قیام میں مدد ملے گی:وزیراعظم
06 جنوری 2015 (20:50)
0

وزیراعظم نے سینٹ میں بعض اراکین کی طرف سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ دہشت گردی کے خلاف20 نکاتی قومی لائحہ عمل سے ملک میں دیرپا امن کے قیام میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم سے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کے خلاف موثر طور پر مقدمات چلانے میں بڑی مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی عدالتوں کے قیام سے متعلق آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے دونوں بل دو سال تک نافذ رہیں گے۔


انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے ملک میں نئے قوانین کی پوری قوت سے نافذ کرنے کے حکومت کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آرمی چیف سمیت عسکری قیادت اس عمل کا حصہ تھی جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلانے کیلئے عدالتوں کے قیام کے حوالے سے قومی ہم آہنگی پیدا ہوئی۔

بل منظور ہونے کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے حمایت کرنے پر قومی قیادت اور ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیااور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ قومی لائحہ عمل کے دوسرے امورکے بارے میں قوانین بنانے کے عمل میں بھی تعاون کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ قومی لائحہ عمل کے دیگر نکات پر عملدرآمد کیلئے نئے قوانین یا موجودہ قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوانین کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے اور اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے اس پر مختلف پارلیمانی جماعتوں اور سیاسی رہنمائوں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔


انہوں نے غیر مشروط حمایت کرنے پر سابق صدر آصف علی زرداری کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین اور اسفند یار ولی خان نے اس عمل میں اپنی جماعتوں کو پورا اختیار دیاجبکہ مشاورتی عمل کے دوران اعتزاز احسن اور مشاہد حسین کا کردارغیر معمولی رہا۔


وزیر اعظم نے حمایت کرنے پر مولانا فضل الرحمن' سراج الحق ' عمران خان ' سید مظفر حسین شاہ ' میر حاصل بزنجو ' ڈاکٹر عبد المالک ' محمود خان اچکزئی اور چوہدری شجاعت حسین سمیت دیگر کا بھی شکریہ ادا کیا۔