قومی اسمبلی میں دوسوسینتالیس ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا۔

پارلیمنٹ نے اکیسویں آئینی ترمیم،پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دیدی
06 جنوری 2015 (19:37)
0

قومی اسمبلی اور سینٹ نے منگل کے روز اکیسویں آئینی ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دی جس کے تحت دہشت گردوں کیخلاف مقدمات کو فوجی افسروں کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں میں جلد نمٹایا جاسکے گا۔ قومی اسمبلی میں دوسوسینتالیس ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔


سینٹ میں آئینی ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ کی حمایت میں 78 ووٹ ڈالے گئے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔ دونوں ایوانوں میں بل کے حق میں ڈالے جانے والے ووٹ آئین میں ترمیم کیلئے مطلوب دوتہائی سے زائد تھے۔ یہ ترمیم وزیر قانون پرویز رشید اور وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی طرف سے پیش کی گئی ترامیم کے ساتھ منظور کی گئی۔ 

 

پاکستان تحریک انصاف،جمعیت علماء اسلام(ف)اورجماعت اسلامی نے ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ اس آئینی ترمیم کامقصد دہشتگردوں کوفوجی افسروں کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں سے فوری سزائیں دلواناہے


اکیسویں ترمیم کے ذریعے پاکستان آرمی ایکٹ مجریہ1952،پاکستان آرمی ایکٹ مجریہ1953ء ،پاکستان نیوی ایکٹ مجریہ 1961ء اورتحفظ پاکستان ایکٹ مجریہ 2014کوآئین کے پہلے شیڈول میں شامل کیاگیاہے۔


پاکستان آرمی ایکٹ میں ایک نئی شق بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت اس ایکٹ یا کسی دوسرے قانون کے مابین تصادم کی صورت میں یہ ایکٹ برقرار رہے گا۔ 1952 کے آرمی ایکٹ کی شق (ڈی) میں ترمیم کے تحت ہر اس شخص کے خلاف اس ایکٹ کے تحت کارروائی کی جاسکے گی جو کسی بھی دہشت گرد گروپ یا تنظیم سے تعلق رکھتا ہو اور مذہب یا کسی فرقے کا نام استعمال کرے یا پاکستان کے خلاف جنگ کرے۔


مسلح افواج \\\' قانون نافذکرنے والے اداروں اور سول یا فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے افراد کو بھی اس ایکٹ کے تحت سزا دی جاسکے گی۔

اغواء برائے تاوان یا ایسے واقعات جن میں کسی شخص کی موت ہو جائے یا کوئی زخمی ہو جائے سے متعلق مقدمات بھی اس ترمیم کے تحت چلائے جائیں گے۔ دھماکہ خیز مواد \\\' آتشیں اسلحہ \\\' خودکش جیکٹس یا گاڑیاںرکھنے والوں کے خلاف بھی اس ایکٹ کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔ ان دونوں بلوں کی شقیں اپنے نفاذ کی تاریخ سے دو سال کی مدت کے لئے موثر رہیں گی۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی میں اکیسویں آئینی ترمیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لئے پوری قوم متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مجوزہ قانون سازی اسلام کے منافی نہیں ہے بلکہ ان عناصر کے خلاف ہے جو بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔
ایوان کا اجلاس اب کل صبح گیارہ بجے ہوگا۔

ریڈیو پاکستان کے پارلیمانی نامہ نگار کے مطابق اب یہ دونوں بل منظوری کیلئے صدر کو بھجوائے جایں گے جس کے بعد یہ آئین کاحصہ بن جائیں گے اور دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی فوری سماعت کیلئے فوجی افسروں کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔