قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت۔

قومی اسمبلی کا کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کا ا ظہار
06 فروری 2017 (21:00)
0

قومی اسمبلی نے پیر کے روز متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں مقبوضہ کشمیر کے کشمیری بھائیوں کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادں کے تحت حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
قرارداد امور کشمیر کے وزیر برجیس طاہر نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ پاکستان کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا
قرارداد میں بھارت کا یہ مضحکہ خیز دعویٰ مسترد کر دیا گیا کہ کشمیر اس کا حصہ ہے اور بھارت نے دوخودمختار ریاستوں کے درمیان اس تنازعے کو خود اقوام متحدہ میں اٹھایا ہے۔
قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی جس کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین اور مسلسل کرفیوں نے کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔
قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں جاری مظالم پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
قراراد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادی کے حصول کیلئے اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔
قرارداد میں پاکستان اور بھارت میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
قومی اسمبلی کو آج بتایا گیا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے کیلئے موثر اقدامات کررہی ہے۔
وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ اس مسئلے کی جانب عالمی توجہ دلائی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کشمیریوں کے قتل عام پر گہرے صدمے کا اظہار کیا گیا اور شہریوں کے خلاف طاقت کے بے تحاشا اور غیرقانونی استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر تجارت نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں سوتی دھاگے کی پیداوار میں گزشتہ تین سال میں ایک اعشاریہ تین پانچ فیصد جبکہ کپڑے کی پیداوار میں اعشاریہ دو ایک فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کو سہولتیں فراہم کر رہی ہے اور اس سال کپاس اور چاول کے کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کا معقول منافع وصول ہوا ہے۔

قومی اسمبلی نے آج مشترکہ طور پر کمپنیز بل مجریہ 2016 کی منظوری دی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا کہ کمپنیز بل بہترین عالمی تجربات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر بھی کام جاری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اجلاس کی اگلی نشست کے دوران ایوان میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کی حتمی رپورٹ پیش کی جائے گی۔