مشیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن کے فروغ کیلئے سیاسی مفاہمت ہی واحد راستہ ہے۔

پاکستان کا افغانستان میں پائیدارامن واستحکام کےعزم کااعادہ
06 فروری 2016 (11:27)
0

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغانستان اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام کیلئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔وہ آج اسلام آباد میں افغان امن کے بارے میں افغانستان ، پاکستان ، امریکہ اور چین کے چارفریقی رابطہ گروپ کے تیسرے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔مشیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن کے فروغ کیلئے سیاسی مفاہمت ہی واحد راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنانے کیلئے پرتشدد کارروائیاں روکنا ہوں گی۔


مفاہمت کے بارے میں افغان حکومت کے عزم کو سراہتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ امریکہ اور چین امن عمل میں سہولت فراہم کرنے کیلئے تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل ہماری جدوجہد کا مظہر ہے جس کا مقصد دہشت گردی کی روک تھام اور دیرپا امن واستحکام مشترکہ اقدامات کرنا ہے۔


انہوں نے امیدظاہرکی کہ اجلاس میں مفاہمتی عمل کیلئےلائحہ عمل کی فوری منظوری اورافغان طالبان اورحکومت کےدرمیان جلدبراہ راست مذاکرات کےانعقادپرتوجہ مرکوز کی جائے گی۔

افغانستان کے بارے میں چار فریقی رابطہ گروپ نے افغان حکومت اور طالبان گروپوں کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کیلئے تاریخ مقرر کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ہفتہ کے روز اسلام آباد میں اجلاس کے اختتام پر جاری کئے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں گروپ نے زور دیا کہ مفاہمتی عمل کا نتیجہ سیاسی حل ہونا چاہئے جس کے نتیجے میں افغانستان میں تشدد کا خاتمہ اور دیرپا امن قائم ہوسکے۔
اجلاس میں افغان حکومت اور طالبان کے بااختیار نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے جلد انعقاد کیلئے مرحلہ وار لائحہ عمل بھی وضع کیا گیا۔
رکن ممالک جن میں پاکستان ، افغانستان ، چین اور امریکہ شامل ہیں ،طالبان گروپس پر زور دیا کہ وہ امن مذاکرات میں شامل ہوں۔
گروپ نے افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے باقاعدگی سے ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
گروپ کا آئندہ اجلاس اس ماہ کی تئیس تاریخ کو کابل میں ہوگا۔