Wednesday, 12 December 2018, 10:08:28 am
کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیاجائیگا،ڈی جی آئی ایس پی آر
December 06, 2018

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ذمہ دار ملک ہے اور بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دے گا۔انہوں نے یہ بات جمعرات کی سہ پہرراولپنڈی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے زیادہ تعداد میں فوج جمع کرنے کے بارے میںایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان خطے میں استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ جنگ سے ہمیشہ تباہی ہوئی ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ اس سال بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اب تک 55 شہری شہید ہوئے ہیں جو اس عرصے کے دوران تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کنٹرول لائن کے پار شہریوں کو جان بوجھ کر ہدف بنارہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ امن کے قیام کے لئے کئی مثبت اقدامات کیے ہیں اور کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد اس سلسلے میں حالیہ اقدام ہے۔افغان امن عمل کے بارے میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اس سیاسی مصالحتی عمل کو کامیاب ہونا چاہیے۔ ہماری خواہش ہے کہ امریکہ ایک ناکام ملک کی نہیں بلکہ ایک دوست کی حیثیت سے افغانستان سے واپس چلا جائے۔امن عمل کے لئے پاکستان کے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہوا پاکستان افغان امن عمل میں سہولت فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ سیاسی مصالحت افغان تنازعے کا واحد حل ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان سرحد پار سے دہشت گردی کو روکنے کیلئے افغانستان کے ساتھ 2611 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگا رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے کامیاب کارروائیوں کے ذریعے اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کردیا ہے ۔داخلی سلامتی کی صورتحال کے بارے میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہاکہ ملک میں امن وامان کی صورتحال کا فی حد تک بہتر ہوئی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعتماد ظاہر کیاکہ استحکام قائم کرنے کی جاری کوششوں کے نتیجے میں ملک میں مکمل امن قائم ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ سابق فاٹا ، بلوچستان اورکراچی میں دہشت گردی ، اغوا کے تاوان اور بھتہ خوری جیسے واقعات میں کمی ہوئی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ تین برسوں میں تین ہزار سے زیادہ فراریوں نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں ۔انہوں نے بلوچستان میں ناراض عناصر پر زوردیاکہ تشدد کا راستہ ترک کردیں اور قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں امن وامان کی درجہ بندی میں کراچی کی صورتحال میں چھ سے بڑھ کر سڑسٹھ درجے بہتری ہوئی ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ آپریشن ردالفساد کے حصے کے طورپر ملک بھر میں چوالیس بڑی کارروائیاں اورخفیہ اطلاعات ملنے پر بیالیس ہزار دیگر کارروائیاں کی گئیں۔انہوں نے کہاکہ مختلف بور کے بتیس ہزار سے زیادہ ہتھیار برآمد کئے گئے ہیں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ پاکستان ایک ایسے مقام پرپہنچ چکا ہے جہاں معیشت، نظم ونسق اور مذہبی اور فرقہ ورایت جیسی خرابیوں سے نمٹنا ہوگا ۔پشتون تحفظ تحریک کے مطالبات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ سابق فاٹا میں حفاظتی چوکیوں میں کی ، بارودی سرنگوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی تلاشی سمیت تینوں مطالبات پرموثر انداز میں کام شرو کردیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سات ہزار لاپتہ افراد میں سے چار ہزار کے مقدمات کونمٹا دیاگیا ہے جبکہ باقی مقدمات پرکام جاری ہے۔انہوں نے ذرائع ابلاغ پر زوردیا کہ پاکستان کامثبت تشخص اجاگرکرنے میں کردارادا کرے کیونکہ اس نے رائے عامہ کو دہشت گردی کے خلاف ہموار کیاتھا ۔