Tuesday, 22 September 2020, 09:34:51 am
پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر بارے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیا
August 06, 2020

آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میںپانچ اگست 2019ء کو بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر کے بارے میں یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیا گیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی اقدامات کا مقصد جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کو طول دینا ہے۔
قرارداد میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر کشمیر بین الاقوامی سطح پر متنازعہ اور دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے۔ قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ غیرقانونی اقدامات کے ذریعے علاقے کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
کشمیری عوام کی اپنے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ نے بھارتی حکومت سے بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر سے فوج کا محاصرہ فوراً ختم کرے اور پانچ اگست 2019ء کے اقدامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
قرارداد میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے غیرقانونی اقدامات کو ترک کر دے بھارت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر سے نو لاکھ فوجیوں کو واپس بلائے اور کشمیریوں کو بنیادی حق خودارادیت دیا جائے۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات اور کشمیری عوام کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو جواب دہ ٹھہرانے کے لئے اپنے تمام ذرائع استعمال کرے۔
اجلاس میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ عالمی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں پوری کروانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالے اور بھارت کے غیرقانونی طور پر زیرقبضہ جموں و کشمیر میں عالمی ذرائع ابلاغ اور آزادمبصرین کو داخلے کی اجازت دے تاکہ وہ کشمیری عوام کے خلاف طاقت اور تشدد کے بے دریغ استعمال کی تحقیقات کر سکیں۔

پارلیمنٹ نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں ظالمانہ قوانین ختم کرے اور میڈیا ، انٹرنیٹ ، نقل وحرکت اور پرامن اجتماع سے پابندیاں ختم کرے۔
پارلیمنٹ نے اپنی قرارداد میں کہاکہ بی جے پی حکومت کے دھمکی آمیز بیانات بے بنیاد ہرزہ سرائی اور غیرذمہ دارانہ اقدامات سے جنوبی ایشیا ء میں امن وسلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
قرارداد میں زوردیا گیا ہے کہ بے جے پی اور آریس ایس کی حکومت انتہاپسندانہ نظریے اور ہندو بلادستی کے عزائم پر مبنی زہریلے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جو اس کے زیر تسلط کشمیریوں ملک کی اقلیتوں اور خطے کے امن واستحکام کیلئے خطرہ ہے ۔
قرارداد میں کہاگیا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کسی جعلی کارروائی یا مہم جوئی کا خدشہ اور قرارداد میں کسی بھی بھارتی کارروائی کا موثر طورپر منہ توڑ جواب دینے کے پوری پاکستانی قوم اور مسلح افواج کے عزم کا اعادہ کیاگیا ہے ۔
پارلیمنٹ نے پچپن سال کے وقفے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعہ کشمیر پر تیسری بحث کا بھی خیرمقدم کیا ۔