قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں فراہم کیا گیا۔

 قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پرعام بحث
05 جون 2017 (18:14)
0

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عام بحث پھر شروع کی۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو کئی اندروانی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے اور انہیں موثر انداز میں حل کیا جانا چاہئیے۔
انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کو وفاقی بجٹ کے بارے میں ان کی تقریر براہ راست نشر نہ کرنے پر تحفظات ہیں ۔ بعد میں اپوزیشن ارکان نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ اگر اپوزیشن ارکان ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں ان مسائل کے حل کیلئے مناسب حکمت عملی وضع کرنے کی غرض سے پارلیمانی کارروائیوں میں حصہ لینا چاہئیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
بحٹ پر بحث کرتے ہوئے افتخار احمد چیمہ نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ خوش آئند ہے اور معاشرے کے تمام طبقوں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔

شذرا منصب علی نے تجویز پیش کی کہ صنعتی اور زرعی شعبوں کی ترقی کے لئے صنعتی اور زرعی قرضوں پر شرح منافع میں کمی کرنی چاہئیے۔
میاں عبدالمنان نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے ایک ہزار ارب روپے سے زائد مختص کرنے سے ملک میں خوشحالی آئے گی اور عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہو گا۔
خلیل جارج نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیا اور کہا کہ بجٹ میں تجویز کئے گئے اقدامات سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔