بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

05 جون 2017 (16:06)
0

سندھ کا مال سال دو ہزار سترہ اٹھارہ کا دس کھرب43 ارب روپے سے زائد مالیت کا سالانہ بجٹ آج سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اور تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے جن کے پاس وزارت خزانہ کا قلمدان بھی ہے ، ایوان میںبجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو مختلف محکموں کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے چھ سو ستائیس ارب روپے سے زائد کی رقم حاصل ہو گی۔
انہوں نے عملے کی قلت کو پورا کرنے کیلئے پولیس میں دس ہزار افراد کی بھرتی سمیت مختلف محکموں میں انچاس ہزار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
سندھ کے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ تعلیم کے شعبے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اسکے لئے دوسو دوارب بیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ صحت کے شعبے کے لئے سو ارب بتیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کیلئے مختص کردہ رقم کی نسبت بیس فیصد زیادہ ہے۔