یعقوب ناصر نے ملکی سلامتی اور معاشی صورتحال بہتر بنانے سے متعلق حکومتی اقدامات کو سراہا۔

سینیٹ میں اگلے مالی سال کے لئے بجٹ تجاویز پر بحث جاری
05 جون 2017 (15:07)
0

سینٹ نے اگلے مالی سال کے لئے بجٹ تجاویز پر بحث جاری رکھی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے یعقوب ناصر نے ملکی سلامتی اور معاشی صورتحال بہتر بنانے سے متعلق حکومتی اقدامات کو سراہا، انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اورتوانائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے بجٹ میں خطیر رقم مختص کی گئی ہے ،انہوں نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی تجویز دی۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے سسی پلیجو نے کہا کہ حکومت سال2016-17 کیلئے معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے انہوںنے کہا کہ حکومت نے امیر طبقے کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کا وعدہ کیا ہے تاہم وہ اس سلسلے میں اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے انہوںنے سرکاری قرضوں میں اضافے پر تشویش کااظہار کیا ہے۔
میر کبیر نے کہا کہ بلوچستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کیلئے صوبے میں ہنگامی بنیادوں پر چھوٹے درمیانے اوربڑے ڈیمز تعمیر کئے جائیں، انہوںنے کہاکہ صوبے میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کیلئے نئی ترسیلی لائنیں بچھائی جانی چاہیے۔شبلی فراز نے کہا کہ اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ اورملکی تشخص اجاگر کرنے کیلئے ثقافتی سرگرمیوںکو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
سردار اعظم خان موسیٰ خیل نے کہا کہ بجٹ میں امیر طبقے اور صنعتکاروں کو مراعات دی گئی ہیں تاہم غریب آدمی کیلئے کچھ نہیں رکھاگیا، انہوںنے کہا کہ فاٹا کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ قبائلی عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

بجٹ کے بارے میں اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے تاج حیدر نے کہا کہ رہائشی پلاٹ بے گھرافراد کو دئیے جانے چاہئیں، انہوں نے کہا کہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے براہ راست ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے، انہوںنے کہاکہ ملک کے روشن مستقبل کیلئے انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بجٹ پر تجویز پیش کررہے ہیں لیکن جب وہ خود اقتدار میں تھے تو انہوں نے ان تجاویز پر کبھی عمل نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ سندھ اور خیبرپختونخوا حکومتیں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
ایم حمزہ نے کہا کہ تمام اقتصادی اعشاریوں میں گزشتہ چار سال کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے ،انہوںنے سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ٹیکس سے بچنے کیلئے حکومتی اقدامات کو سراہا۔

ایوان کا اجلاس اب کل دن گیارہ بجے ہوگا۔