وزیرداخلہ نے کہا کہ خصوصی عدالتیں محدود مدت کیلئے قائم کی جائیں گی اور انہیں شہریوں کے خلاف استعمال نہیں کیاجائے گا۔

حالات غیر معمولی اقدامات کے متقاضی ہیں:چودھری نثار
05 جنوری 2015 (19:13)
0

دہشتگردوں کے خلاف مقدمات کی فوری سماعت کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام کا اکیسویں آئینی ترمیم کا بل پیر کی شام قومی اسمبلی میں پیش کیاگیا۔
قانون و انصاف کے وفاقی وزیر پرویز رشید نے یہ بل پیش کیا۔
وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتیں اس لئے قائم کی جارہی ہیں کیونکہ پاکستان ایک غیر معمولی صورتحال سے گزررہاہے جس کیلئے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد امریکہ نے بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی تھیں ۔
کوئٹہ ،کراچی ، واہگہ سرحد اور پشاور میں دہشتگردی کے بعض انتہائی سفاکانہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشتگردی کے مسئلے پر متحد ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ لوگ ہمیشہ کیلئے دہشتگردی سے نجات چاہتے ہیں ۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ خصوصی عدالتیں محدود مدت کیلئے قائم کی جائیں گی اور انہیں شہریوں کے خلاف استعمال نہیں کیاجائے گا۔
چوہدری نثار نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں اور فوج متحد ہوجائیں تو پاکستان دہشتگردی پر قابو پالے گا۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے جہاں پر شہری مشتبہ سرگرمیوں کے بارے میں حکام کو مطلع کرسکتے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ عوام متحد ہو کر دہشتگردی کے خاتمے میں اپنا کرداراداکریں ۔
وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ خصوصی عدالتوں کو مقدمات پوری طرح چھان بین کے بعد بھیجے جائیں گے اور سماعت کے دوران دہشتگردوں کو بھی دفاع کا موقع دیاجائے گا۔
اُنہوں نے کہا کہ خصوصی عدالتیں قائم کرنے کے بارے میں قانون ظالمانہ نہیں ہوگاکیونکہ آرمی ایکٹ کئی سال سے موجودہے اور بہت سے فوجی اہلکاروں کے خلاف اس کے تحت مقدمات چلائے گئے ہیں ۔
اُنہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کی خاطر میڈیا کے نمائندوں اور علماء کرام کا تعاون حاصل کرنے کیلئے بھی ان کا اجلاس بلایاجائے گا۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ قوم کی اپنی جنگ بن گئی ہے ۔
اُنہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ عناصر جنگی جرائم میں ملوث افراد کے بنیادی حقوق کی باتیں کررہے ہیں اور وہ پاکستان کے دشمن ہیں ۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ریاست ، آئین اور پارلیمنٹ کے خلاف ہتھیار اُٹھانے والوں کا مقابلہ کرنے کیلئے مل کر کام کرنا چاہیئے ۔