بلیغ الرحمن نے کہا کہ7 ارب روپے مختلف سکیموں کے تحت دیہی سندھ، جنوبی پنجاب ، فاٹا اور گلگت بلتستان سمیت پسماندہ علاقوں کیلئےمختص کئےگئے ہیں۔

سینیٹ:اعلیٰ تعلیمی کمیشن کیلئے 70ارب روپے مختص
05 جنوری 2015 (19:17)
0

سینٹ کو پیر کے روز بتایاگیا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کیلئے ستر ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جس میں پسماندہ علاقوں پر خاص توجہ دی گئی ہے ۔
کمیشن کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے فرحت اللہ بابر کی طرف سے پیش کی گئی تحریک پر بحث کو سمیٹتے ہوئے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے کہا کہ سات ارب روپے مختلف سکیموں کے تحت دیہی سندھ، جنوبی پنجاب ، فاٹا اور گلگت بلتستان سمیت پسماندہ علاقوں کیلئے مختص کئے گئے ہیں ۔
اُنہوں نے کہا کہ نئی سکیم کے تحت یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھا کر ایک سو تریسٹھ کردی گئی ہے جبکہ دس یونیورسٹیاں ایشیا کی تین سو بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ پچھلے سال تک نئی پبلیکیشنز کی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ گئی ہے ۔
اس سے پہلے بحث میں حصہ لیتے ہوئے فرحت اللہ بابر ، حسیب خان ، رئوف خان ، الیاس بلور ، عبدالنبی بنگش اور ایم حمزہ سمیت ارکان نے کہاکہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی کارکردگی کیء جائزے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیئے ۔اُنہوں نے کہا کہ کمیٹی میں تمام صوبوں کی یکساں نمائندگی ہونی چاہیئے ۔اُنہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے فنڈز صوبوں کو براہ راست منتقل کئے جانے چاہیئں ۔
عبدالحسیب خان کی پیش کردہ تحریک پر بحث کرتے ہوئے صحت کی وزیرمملکت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل کردیاگیاہے ۔اُنہوں نے کہا کہ صوبوں کو پولیو اور اس جیسے دوسرے پروگراموں کو مزید کامیاب بنانے اور مقررہ اہداف حاصل کرنے کیلئے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے ۔