خواجہ سعدرفیق نے پاکستان تحریک انصاف پرزوردیا کہ وہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے خاتمے تک اپنا مارچ ملتوی کر دے۔

حکومت کی مسائل کےحل کیلئے حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت
05 اگست 2014 (13:35)
0

ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق نےمسائل کے حل کیلئے حزب اختلاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔آج قومی اسمبلی میں آرٹیکل 245 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ تحریک انصاف طالبان کے ساتھ تو مذاکرات کی حامی ہے لیکن حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کیلئے تیار نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور مسلح افواج ملک سے دہشتگردوں کے خاتمے میں مصروف ہیں اور جمہوری قوتیں اس بات پر متفق ہیں کہ دہشتگردی کی موجودگی میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

 

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے خاتمے تک اپنا مارچ ملتوی کر دے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مسلح افواج اور مارچ کے شرکاء آمنے سامنے نہیں آئیں گے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو مسلح افواج کارروائی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو اس بات کی ضمانت دینی چاہئیے کہ اسکے مارچ کے دوران کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مسترد شدہ لوگ جمہوریت کو پٹڑی سے نہیں اتار سکتے۔


اس سے پہلے بحث کا آغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشیدشاہ نے کہا کہ ہمیں آرٹیکل دوسو پینتالیس کے نفاذ پر کوئی اعتراض نہیں تاہم حکومت کو پارلیمنٹ کے تمام ارکان کو اعتماد میں لینے کیلئے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہئیے۔انہوں نے آرٹیکل دو سو پینتالیس کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور حکومت کو تجویز دی کہ وہ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرے۔

 

شیخ رشید احمد نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے لچک کا مظاہرہ کریں کیونکہ محاذآرائی نقصان دہ ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے آرٹیکل245 فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا اور یقین دلایا کہ آزادی مارچ پرامن ہو گا۔

رشید گوڈیل نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ وہ کیوں آرٹیکل 245 نافذ کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے تناظر میں آرٹیکل 245 کا نفاذ ناگزیر ہے تو یہ آرٹیکل اسی دن سے نافذ ہو جانا چاہئیے تھا جس دن یہ آپریشن شروع ہوا تھا۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایسی باتیں بھی کی جا رہی ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج اور مارچوں کے پیچھے بعض خفیہ ہاتھ ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ وزیراعظم کو عمران خان سمیت پارٹی سربراہان کا اجلاس بلانا چاہیٔے تاکہ اس معاملے پر حل کیا جائے۔

صاحبزادہ طارق اﷲ نے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی۔آفتاب خان شیرپاؤ نے کہا کہ وفاقی حکومت میں ایسی کوئی صورتحال نہیں کہ جس سے آرٹیکل 245 کے نفاذ کا جواز پیدا ہو۔

اعجاز الحق نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے ،،،، قوم کو مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں آرٹیکل 245 کے نفاذ کا پاکستان تحریک انصاف کے چودہ اگست کے لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں ۔