وزیر داخلہ نےقومی اسمبلی میں بحث سمیٹتےہوئے کہاکہ آرٹیکل 245صرف دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے نافذ کیاگیا ہے

آرٹیکل 245کےنفاذ کاکسی احتجاج یادھرنےسےکوئی تعلق نہیں:وزیر داخلہ
05 اگست 2014 (15:27)
0

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے واضح الفاظ میں کہاہے کہ وفاقی دارالحکومت میں آرٹیکل 245کے نفاذ کا کسی احتجاج ، دھرنے ، لانگ مارچ یا عوامی جلسے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آج (منگل) سہ پہر قومی اسمبلی میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ آرٹیکل 245صرف دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے نافذ کیاگیاہے ۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ یہ آرٹیکل پارٹی میں مشاورت، قانونی رائے لینے اور مسلح افواج کے ساتھ بار بار مشاورت کے بعد نافذ کیاگیا ہے۔


اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پارلیمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر کئی مرتبہ آرٹیکل 245نافذ کیاگیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حزب اختلاف کی جانب سے تنقید کا کوئی جوا ز نہیں ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آرٹیکل کا نفاذ آئین اور قانونی کے منافی نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس کی واضح مثالیں موجود ہیں کہ سری لنکا، برطانیہ ، سپین ، اٹلی اور لاطینی امریکہ کے ملکوں میں سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج کو طلب کیاگیا۔


وزیرداخلہ نے کہاکہ آرٹیکل 245نافذ کر کے اسلام آباد کو فوج کے حوالے نہیں کیاجارہا۔ اُنہوں نے کہا کہ نوٹیفیکشن میں یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ فوج انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت کارروائی کرے گی اور آرٹیکل دو سو پینتالیس مسلح افواج کی ایسی کارروائی کو قانونی تحفظ فراہم کرے گا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل کراچی ہوائی اڈے پر دہشتگردی جیسے واقعات سے بچنے کیلئے نافذ کیاگیا ہے۔

 

وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں حساس مقامات پر فوج پہلے ہی تعینات کی جاچکی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کا کوئی دائرہ اختیار ختم نہیں ہوا۔ اُنہوں نے کہا جب بھی ضرورت پڑی تو فوج کو طلب کیاجائے گا، اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ محرم کے دوران چاروں صوبوں میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے صوبائی حکومتوں کی درخواست پر آرٹیکل دو سو پینتالیس کے تحت فوج طلب کی گئی تھی ۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ حکومت چودہ اگست سے پہلے یا اس کے بعد فوج کو سیاسی معاملات میں ہر گز شامل نہیں کرے گی۔ چوہدری نثار نے مسلح افواج کی مکمل حمایت پر زوردیا جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے ۔

 

بحث میں حصہ لیتے ہوئے ریلوے کے وزیر خواجہ سعد رفیق نے مسئلے کے حل کیلئے حزب اختلاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ تحریک انصاف طالبان کے ساتھ تو مذاکرات کی حامی ہے لیکن حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کیلئے تیار نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور مسلح افواج ملک سے دہشتگردوں کے خاتمے میں مصروف ہیں۔


انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے خاتمے تک اپنا مارچ ملتوی کر دے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مسلح افواج اور مارچ کے شرکاء آمنے سامنے نہیں آئیں گے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو مسلح افواج کارروائی کرے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مسترد شدہ لوگ جمہوریت کو پٹڑی سے نہیں اُتارسکتے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو اس بات کی ضمانت دینی چاہئیے کہ اسکے مارچ کے دوران کوئی دہشت گردی کا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ اس سے پہلے آرٹیکل 245کے عملدرآمدپر بحث کا آغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشیدشاہ نے کہا کہ ہمیں آرٹیکل کے نفاذ پر کوئی اعتراض نہیں تاہم حکومت کو پارلیمنٹ کے تمام ارکان کو اعتماد میں لینے کیلئے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہئیے۔


انہوں نے آرٹیکل دو سو پینتالیس کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور حکومت کو تجویز دی کہ وہ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرے۔

 

شیخ رشید احمد نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے لچک کا مظاہرہ کریں کیونکہ محاذآرائی نقصان دہ ہوگی۔ ڈاکٹر عارف علوی نے آرٹیکل245 فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا اور یقین دلایا کہ آزادی مارچ پرامن ہو گا.


رشید گوڈیل نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئیے کہ اُس نے آرٹیکل 245کیوں نافذ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے تناظر میں آرٹیکل 245کا نفاذ ناگزیر ہے تو یہ آرٹیکل اسی دن سے نافذ ہوجانا چاہیئے تھا جس دن یہ آپریشن شروع ہوا تھا۔


محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایسی باتیں بھی کی جا رہی ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج اور مارچوں کے پیچھے بعض خفیہ ہاتھ ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ وزیراعظم کو عمران خان سمیت پارٹی سربراہان کا اجلاس بلانا چاہیٔے تاکہ اس معاملے کوحل کیا جائے۔


صاحبزادہ طارق اﷲ نے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی۔ آفتاب خان شیرپاؤ نے کہا کہ وفاقی حکومت میں ایسی کوئی صورتحال نہیں کہ جس سے آرٹیکل 245 کے نفاذ کا کوئی جواز پیدا ہو۔


اعجاز الحق نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے ، قوم کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں آرٹیکل 245 کے نفاذ کا پاکستان تحریک انصاف کے چودہ اگست کے لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں۔
ایوان کا اجلاس اب کل (بدھ) صبح ساڑھے دس بجے پھر شروع ہوگا۔