پابندیوں کے باوجود بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں جاری
04 اکتوبر 2016 (19:47)
0

مقبوضہ کشمیرمیں آج مسلسل 88ویں دن بھی پابندیوں کے باوجود زبردست بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں جاری رہیں۔
سرینگر ، کپواڑہ 'بارہمولہ ، بانڈی پورہ ، پلوامہ ، کولگام ، شوپیان ، اسلام آباد اور گاندربل کے اضلاع میںخواتین اوربچوں سمیت لوگ پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے اور بھارت مخالف مظاہرے کئے۔
بھارتی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر پیلٹ گن سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری شبیر احمد شاہ اوررہنماء آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے بیانات میں جموں کشمیر کے بارے میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے متفقہ موقف کی تعریف کی ۔
انسانی حقوق کی بین الاقومی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کٹھ پتلی انتظامیہ کو روزنامہ کشمیر ریڈرکی اشاعت پر عائد پابندی کو ختم کرنے پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ اخبار پر پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخبار کو رپورٹنگ پر نشانہ بنایاگیا ہے۔
بھارتی پولیس نے کپواڑہ اور بانڈی پورہ کے اضلاع سے کم سے کم 6سوسے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن میں بیشتر حریت رہنماء اورکارکن شامل ہیں۔
ادھر دلی کے وزیر اعلیٰ ارویند کجرویوال کے بعد کانگرس کے رہنما سنجے نرو پم نے بھی کنٹرول لائن کے پار بھارت کے نام نہاد سرجیکل حملوں کے دعوے پر سوال اٹھایا ہے ۔ بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر مارشل اروپ راہانے بھارتی فضائیہ کی سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے کے بھارتی سرجیکل حملوںسے متعلق دعوئوںکے بارے میںسوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔