Friday, 20 September 2019, 10:16:52 am
حکومتی اقدامات کی بدولت معاشی اشاریوں نے مثبت نتائج دینا شروع کر دئیے ہیں،مشیر خزانہ
September 04, 2019

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کے اقدامات کی بدولت معاشی اشاریوں نے مثبت نتائج دینا شروع کردیئے ہیں۔حکومت کی معاشی ٹیم کے ہمراہ بدھ کے روزسہ پہر اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتداء میں حکومت کی توجہ بیرونی اور اندرونی محاذوں پر معیشت کو مستحکم کرنے پر تھی۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کے استحکام کیلئے آئی ایم ایف اور د یگر مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدے کئے گئے اور دوست ملکوں سے تعاون مانگا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں جاری کھاتوں کے خسارے اور درآمدات میں کمی ہوئی۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت کفایت شعاری کے پروگرام پر عمل پیرا ہے جس کے تحت سول اداروں کے اخراجات میں پچاس ارب روپے کی کمی لائی گئی اور عسکری بجٹ منجمد کردیاگیا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 2015ء سے اب تک توثیق شدہ سیلز ٹیکس کی مد میں رقم واپس کی جائے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ مشکلات سے پاک ایک نظام بنایا گیا ہے جس میں ایف بی آر کے عملے کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اب ہر برآمد کنندہ کے دعویٰ کی ہر ماہ کی 16 تاریخ کو ادائیگی کردی جائے گی۔اس نظام کو Faster کا نام دیا گیا ہے جو گزشتہ ماہ کی تیس تاریخ سے فعال کردیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے محصولات کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موبائل لائسنسوں کی تجدید کے سلسلے میں 70 ارب روپے جو کہ 50 فیصد جزوی ادائیگی ہے ، حکومت کو وصول ہوگئی ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ایکنک نے 579 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے جن میں سے 250 ارب روپے خصوصی طور پر زرعی شعبے کیلئے مختص کئے گئے ہیں کیونکہ PTI حکومت کی اہم ترجیحات میں غربت میں کمی ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ سرکاری منصوبوں کی فیصلہ سازی سے متعلق بڑی تبدیلی لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبوں کو موجودہ 50 کروڑ روپے کی حد سے دو ارب روپے تک کے منصوبوں کی منظوری کی اجازت دے دی گئی ہے۔انہوں نے کہا سرکاری شعبوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے نجکاری کے عمل کو تیز تر کیا جارہا ہے۔انہوں نے غیر ٹیکس محصولات کے بارے میں کہا کہ اس میں خاصا اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی پلانٹس کی نجکاری سے 300 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ گزشتہ سال کے 80 ارب کے مقابلے میں نجی کریڈٹ بڑھ کر 120 ارب روپے ہوگیا ہے ۔ اس سے اقتصادی سرگرمیوں میں زیادہ رقم کی گردش کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی جس کے نتیجے میں خوشحالی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آٹھ ماہ میں توانائی کے محصولات میں فعال انداز میں کام اور بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں 120 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔